بھارتی ریاست تمل ناڈو میں تمل فلمی سپر اسٹار اور سیاست دان وجے تھلاپتی کی حکومت قائم ہونے کے محض 2 ماہ بعد، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کو 35، 35 کروڑ روپے کی پیشکش اور اجتماعی استعفوں کے ذریعے حکومت گرانے کی ایک بڑی سیاسی سازش کو ناکام بناتے ہوئے ایک نجی کنسلٹنسی فرم کے 3 کارندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں نو منتخب وزیرِ اعلیٰ اور مشہور اداکار و سیاست دان وجے تھلاپتی کی حکومت کو گرانے کی ایک سنسنی خیز سازش کا انکشاف ہوا ہے۔
تمل ناڈو کی خفیہ ایجنسی (انٹیلی جنس) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومت کے خلاف تیار کی گئی ایک مبینہ سیاسی بغاوت کو بروقت ناکام بنا دیا ہے۔
اس سازش کا بنیادی مقصد وجے تھلاپتی کی پارٹی کے متعدد اراکینِ اسمبلی سے اجتماعی استعفے دلوا کر حکومت کو اقلیت میں لانا اور گرانا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب ایک حکومتی رکنِ اسمبلی نے پولیس کو باقاعدہ شکایت درج کروائی۔
35 کروڑ کی پیشکش اور دھمکیاں، رکنِ اسمبلی کا سنسنی خیز انکشاف
میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے تھلاپتی کی جماعت (ٹی وی کے) کے ایک سرکردہ رکنِ اسمبلی نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ ’آئی پی ڈی ایس‘ نامی ایک نجی کنسلٹنسی فرم کے نمائندوں نے ان سے خفیہ ملاقات کی۔
دورانِ ملاقات رکنِ اسمبلی کو اسمبلی اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرنے اور پارٹی چھوڑنے کے بدلے 35 کروڑ روپے کی خطیر رقم کی پیشکش کی گئی۔
رکنِ اسمبلی کا مزید الزام ہے کہ جب انہوں نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا، تو فرم کے نمائندوں نے انہیں شدید نتائج کی دھمکیاں دیں اور اس معاملے کو خفیہ رکھنے کا کہا۔ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس اور انٹیلی جنس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فرم سے وابستہ 3 افراد کو حراست میں لے لیا۔
15 استعفوں کا ہدف اور اپوزیشن رہنماؤں کے روابط
انٹیلی جنس حکام کے مطابق اس سازش کے تحت وجے کی حکومت کو گرانے کے لیے مجموعی طور پر 15 اراکینِ اسمبلی سے ایک ساتھ استعفیٰ دلوانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران یہ ہولناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک کے براہِ راست روابط حزبِ اختلاف کی جماعت ڈی ایم کے کے سینیئر لیڈر سینتھل بالاجی اور ان کے بھائی اشوک سے ہیں۔
پولیس اب اس پورے نیٹ ورک اور کرپشن کے وسیع تانے بانے تلاش کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر رہی ہے۔
سیاسی الزامات کی بوچھاڑ اور اپوزیشن کا مؤقف
اس انکشاف کے بعد تمل ناڈو کے وزیر سی ٹی نرمل کمار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے براہِ راست اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے کو نشانے پر لیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سینتھل بالاجی سے وابستہ افراد اور بدنام زمانہ ’کرور گینگ‘ اس گھناؤنی سازش کے پیچھے ہیں اور پولیس کو ان تمام کرداروں کو فوری گرفتار کرنا چاہیے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈی ایم کے اس وقت اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیڈر کے پلانی سوامی کے ساتھ مل کر پسِ پردہ حکومت گرانے کے جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔
دوسری جانب ڈی ایم کے نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی ڈراما قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان اے سرونن کا کہنا ہے کہ وجے تھلاپتی کی پارٹی (ٹی وی کے) بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے محض سستی شہرت اور سیاسی پروپیگنڈے کے لیے یہ الزامات لگا رہی ہے۔
انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر حکومت کے پاس سینتھل بالاجی کے خلاف کوئی بھی حقیقی ثبوت ہے تو وہ انہیں گرفتار کر کے دکھائے۔
تمل فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار وجے تھلاپتی نے حال ہی میں اپنی نئی سیاسی جماعت ’تملکا ویٹری کژگم‘ (ٹی وی کے) بنا کر سیاست میں قدم رکھا تھا اور تمل ناڈو کے حالیہ انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔
محض 2 ماہ قبل قائم ہونے والی ان کی حکومت تمل ناڈو کی روایتی سیاسی جماعتوں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی تھی، جو دہائیوں سے اس ریاست پر باری باری حکومت کرتی آ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وجے کی مقبولیت کو روایتی سیاست دانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
محض 2 ماہ کے اندر وجے تھلاپتی کی نوزائیدہ حکومت کے خلاف اتنی بڑی سازش کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ تمل ناڈو کی روایتی طاقتیں ایک فلمی ستارے کی سیاسی بالادستی کو آسانی سے ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
’ہارس ٹریڈنگ‘ (اراکین کی خرید و فروخت) اور کنسلٹنسی فرمز کا استعمال بھارتی سیاست کا ایک تاریک پہلو ہے، جسے اب تمل ناڈو میں بھی آزمایا جا رہا ہے۔
اگرچہ وجے نے اپنے اراکین کی وفاداری اور انٹیلی جنس کی مستعدی کی وجہ سے یہ پہلا حملہ تو ناکام بنا دیا ہے، لیکن 15 اراکین کو توڑنے کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ آنے والے دن وجے تھلاپتی کے لیے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوں گے اور انہیں اپنی حکومت بچانے کے لیے سیاسی طور پر مزید پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔