پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، دفاتر کے چکر ختم، نادرا کا گھر بیٹھے ویزا وریفکیشن نظام متعارف

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، دفاتر کے چکر ختم، نادرا کا گھر بیٹھے ویزا وریفکیشن نظام متعارف

قومی شناختی و اندراج اتھارٹی (نادرا) نے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے افراد کو ویزا اسپانسر کرنے والے شہریوں کے لیے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے مفت بائیو میٹرک تصدیق کرنے کی جدید ترین ڈیجیٹل سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد دفتری چکروں کو ختم کر کے ویزا اسپانسرشپ کے عمل کو تیز، محفوظ اور آسان بنانا ہے۔

قومی شناختی و اندراج اتھارٹی (نادرا) نے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت بیرونِ ملک مقیم افراد کو پاکستانی ویزا کے حصول کے لیے اسپانسر کرنے والے مقامی شہریوں کے لیے ایک شاندار اور آسان سفری سہولت کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فنگر پرنٹس، کیو آر کوڈ، آئرس اسکین، جانئے قومی شناختی کارڈ میں شامل نئے فیچر ز کی تفصیل

اب ویزا اسپانسر کرنے والے پاکستانیوں کو بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے، بلکہ وہ نادرا کی آفیشل ’پاک آئی ڈی‘ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے اسمارٹ فون سے ہی یہ عمل سیکنڈوں میں مکمل کر سکیں گے۔

حکام کے مطابق اس جدید سروس کے لیے شہریوں سے کوئی اضافی فیس یا چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔

ای میل سے وریفکیشن اسٹیٹس تک

نادرا کے ترجمان کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار انتہائی سادہ اور محفوظ بنایا گیا ہے، بیرونِ ملک سے پاکستان آن لائن ویزا سسٹم میں درخواست جمع ہونے کے بعد پاکستان میں موجود اسپانسر کو فوری طور پر ایک ای میل موصول ہوگی جس میں ویزا درخواست کی تمام تفصیلات موجود ہوں گی۔

ای میل موصول ہونے پر اسپانسر کو اپنے موبائل میں “پاک آئی ڈی” ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے لاگ اِن کرنا ہوگا۔ پہلی مرتبہ ایپ استعمال کرنے والے صارفین کو اپنا نیا اکاؤنٹ بنانا ہوگا، جس کے لیے ای میل، چہرے کی اسکیننگ اور فنگر پرنٹس کی ڈیجیٹل تصدیق لازمی ہوگی۔

اکاؤنٹ فعال (ایکٹیو) ہوتے ہی صارف نادرا سروسز کے مینو میں جا کر ویزا اسپانسرشپ کا آپشن منتخب کرے گا اور اپنی یا اپنے کسی قریبی خونی رشتہ دار کی بائیو میٹرک تصدیق کر سکے گا۔

مزید پڑھیں:عوامی سہولت کے پیشِ نظر قومی شناختی کارڈ میں بڑی تبدیلی کیئے جانے کا امکان

جیسے ہی فنگر پرنٹ اسکیننگ مکمل ہوگی، اسکرین پر’ویری فکیشن سکسیس فل‘ کا پیغام ظاہر ہوگا اور آن لائن ویزا پورٹل پر درخواست کا اسٹیٹس خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو کر اگلے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

سہولت کے مقاصد اور فوائد

نادرا حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی ڈیجیٹل سروس کا بنیادی مقصد پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کو فول پروف اور تیز رفتار بنانا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب کسی بھی جعلی اسپانسرشپ کا امکان ختم ہو جائے گا کیونکہ درخواست گزار کی تصدیق براہِ راست اس کے بائیو میٹرک ڈیٹا سے کی جائے گی۔

اس کے علاوہ سمندر پار پاکستانیوں کے رشتہ داروں اور کاروباری شخصیات کا قیمتی وقت بچے گا اور وہ طویل دفتری قطاروں اور سفری زحمت سے محفوظ رہیں گے۔

ماضی میں بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے غیر ملکیوں یا اوورسیز پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ویزا کے لیے کسی پاکستانی شہری کی اسپانسرشپ یا دعوت نامے کی ضرورت ہوتی تھی، جس کی تصدیق کے لیے اسپانسر کو نادرا کے نامزد مراکز پر جا کر خود فنگر پرنٹس دینے پڑتے تھے۔

اس روایتی طریقے کی وجہ سے ویزا پراسیسنگ میں کئی دن لگ جاتے تھے اور دور دراز علاقوں کے رہائشیوں کو شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

نادرا نے حالیہ سالوں میں شناختی کارڈ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور اب ویزا وریفکیشن کو موبائل ایپ پر منتقل کر کے اپنے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہورہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، شناختی کارڈ بحالی کا ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم، قومی سلامتی مقدم قرار

نادرا کی جانب سے پاک آئی ڈی ایپ میں ویزا اسپانسرشپ کی بائیو میٹرک تصدیق شامل کرنا ڈیجیٹل گورننس کی سمت میں ایک بڑا اور مثبت قدم ہے۔

یہ اقدام نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیگریشن اور ویزا سسٹم پر اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ ٹیکنالوجی کے اس استعمال سے جہاں ویزا فراڈ اور شناختی چوری کی روک تھام ممکن ہوگی، وہاں سیاحت اور کاروبار کے لیے پاکستان آنے والے افراد کو اب ویزا کے حصول میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یہ سروس نادرا کی اس اسمارٹ اپروچ کو ظاہر کرتی ہے جہاں موبائل کیمرے کو ہی فنگر پرنٹ اسکینر کے طور پر استعمال کر کے ریاستی نظام کو عوام کے لیے سہل بنا دیا گیا ہے۔

Related Articles