معروف اداکار تھلپتی وجے کا بطور بھارتی ریاست تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد سوشل میڈیا پر وِجے کی 2024 کی فلم “دی گریٹیسٹ آف آل ٹائم” کے ایک منظر کو وائرل ہو رہا ہے ۔
اس فلم میں وجے کی گاڑی کی نمبر پلیٹ نظر آتی ہے جس پر “TN07CM2026” درج تھا۔ اس نمبر پلیٹ کا مطلب تھا “TN” چنئی، “CM” چیف منسٹر اور “2026” وہ سال جب وِجے نے حقیقت میں وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا۔
وِجے کی سیاست کا آغاز صرف سینیما کی دنیا سے نہیں، بلکہ ان کی ذاتی اور ثقافتی شناخت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ مسیحی ہدایتکار ایس جے چندرشیکھر اور ہندو گلوکارہ شوبھا کے بیٹے ہیں، اور ان کی یہ شناخت ان کی سیاسی سوچ پر بھی اثرانداز ہوئی ہے۔ پہلی ہی سیاسی تقریر میں وِجے نے سیکولرازم اور مساوات کی سیاست کو اپنا مقصد قرار دیا۔
ان کی سیاسی زندگی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کی گاڑی کے نمبر پلیٹ پر ‘TN07 027’ درج ہے، جو ان کی مرحوم بہن ودیا کی تاریخ پیدائش کی علامت ہے، جو بچپن میں ہی ان سے جدا ہو گئی تھیں۔ یہ ذاتی المیہ وِجے کی سیاست میں ایک جذباتی محرک بن گیا، خاص طور پر جب انہوں نے تمل ناڈو کے میڈیکل امتحان ‘نیٹ’ کے خلاف مہم شروع کی۔ طالبہ انیتا کی خودکشی جو نیٹ امتحان کے دباؤ کی وجہ سے ہوئی، کو وِجے نے اپنی بہن کے دکھ کی طرح محسوس کیا اور اس مسئلے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنا لیا۔
2026 کے اسمبلی انتخابات میں وِجے کی پارٹی ٹی وی کے نے 108 سیٹیں جیت کر تمل نادو کی روایتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ کانگریس اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے حکومت بنائی اور اقتدار میں آتے ہی اپنا پہلا وعدہ پورا کیا۔ وِجے نے نیٹ کے خاتمے کا حکم دے دیا، جو نوجوانوں کے لیے ایک بڑا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
وِجے کے پاس 600 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں اور ان کے لاکھوں مداح ہیں، لیکن اب ان کی ذمہ داری 8 کروڑ لوگوں کی فلاح و بہبود ہے۔ سینیما سے سیاست تک کا ان کا سفر آسان نہیں تھا، لیکن ان کی طویل المدتی حکمت عملی سے ان کے مستقبل کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ کیا وِجے سینیما کے ہیرو کی طرح سیاست میں بھی نیا معیار قائم کر پائیں گے؟