معروف ولاگر اور صحافی اسد علی طور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ایک 7 سال پرانی ویڈیو بغیر کسی سیاق و سباق اور تاریخ کے شیئر کر دی، جس میں انتظامیہ کو ایک دکان دار کے ساتھ سخت رویہ اپناتے دکھایا گیا ہے۔
اس پوسٹ کے ذریعے سول سروس اور سی ایس ایس کے نظام کو نشانہ بنانے پر عوامی اور صحافتی حلقوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے گمراہ کن اور بدترین ’یلو جرنلزم‘ قرار دیا ہے۔
پاکستانی ولاگر اور صحافی اسد علی طور کو سوشل میڈیا پر ایسی پرانی ویڈیو کو حالیہ واقعے کے طور پر پیش کرنے پر شدید عوامی غیظ و غضب کا سامنا ہے۔
اتوار 5 جولائی 2026 کی صبح اسد طور نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں تحصیل خار (باجوڑ) کے اسسٹنٹ کمشنر فضل الرحمن کو ایک پکوڑے والے دکان دار پر ڈنڈا مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صحافی و وی لاگر آشر علی کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان
اسد طور نے اس ویڈیو کو بنیاد بنا کر سول سروسز اکیڈمی کے تربیتی معیار اور سی ایس ایس کے پورے امتحانی نظام پر سخت سوالات اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ یہ نظام انسانیت کے بجائے طاقت کے نشے میں چور افسران پیدا کر رہا ہے۔
فیکٹ چیک اور حقیقت کا انکشاف
اسد طور کی پوسٹ کے فوری بعد جب سوشل میڈیا پر بحث چھڑی تو حقائق کی جانچ پڑتال (فیکٹ چیک) سے یہ معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو مئی 2020 کی ہے، یعنی اب سے تقریباً 7 سال پرانی ہے۔
یہ وہ دور تھا جب پاکستان کورونا عالمی وبا کے پہلے اور سخت ترین مرحلے سے گزر رہا تھا اور ملک بھر میں سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ تھا۔
اس ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنرز کو صحت کے ضوابط (ایس او پیز)، سماجی فاصلے اور دکانوں کی بروقت بندش کو ہر صورت یقینی بنانے کا ٹاسک سونپا گیا تھا تاکہ شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
اگرچہ انتظامیہ کے بعض اقدامات سخت تھے، تاہم ان کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ تھا۔ اسد طور نے 5 جولائی 2026 کو اس پرانی فوٹیج کو تاریخ اور پس منظر بتائے بغیر شیئر کر کے اسے موجودہ دور کا واقعہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔
عوامی و صحافتی حلقوں کا شدید ردعمل
اسد طور کی اس پوسٹ پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پرانا مواد بغیر سیاق و سباق کے شیئر کر کے عوام کو سول سروس کے خلاف اکسانا اور گمراہ کرنا کسی طور قبول نہیں ہے۔
ایک صارف نے براہِ راست تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کم از کم تصدیق تو کر لیں کہ ویڈیو کن حالات میں اور کب بنائی گئی تھی، 7 سال پرانی ویڈیو وہ بھی لاک ڈاؤن کے وقت کی پوسٹ کر کے آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ صاف ستھری صحافت ہے؟‘
صارفین نے اس طرزِ عمل کو صحافتی اخلاقیات کا جنازہ اور سول سروس کو جان بوجھ کر بدنام کرنے کی بدترین کوشش قرار دیا ہے۔ تاحال اسد طور نے ان مخصوص الزامات پر کوئی جواب یا صفائی پیش نہیں کی ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے عروج کے بعد سے پرانی اور گمراہ کن ویڈیوز کو نئے تناظر میں پیش کر کے سنسنی پھیلانے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔
اسد طور جیسے صحافی خود بھی ماضی میں اپنے جارحانہ بلاگز اور ریاستی اداروں پر تنقید کے باعث سرخیوں میں رہے ہیں۔
مئی 2020 کا دور پاکستان کی انتظامی تاریخ کا ایک غیر معمولی وقت تھا جب سول انتظامیہ فرنٹ لائن پر کھڑی تھی اور ضوابط پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف بعض مقامات پر سخت اقدامات بھی کیے گئے، جن کی اس وقت بھی مانیٹرنگ کی گئی تھی۔
موجودہ تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات سیکنڈوں میں پھیلتی ہیں، صحافیوں پر حقائق کی تصدیق کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
2020 کی فوٹیج کو 2026 میں موجودہ شواہد کے طور پر پیش کرنا نہ صرف ناظرین کو دھوکا دینے کے مترادف ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔
اگرچہ انتظامیہ کی بدسلوکی پر تنقید ہر شہری اور صحافی کا حق ہے، لیکن اس کے لیے سچے اور موجودہ حقائق کا ہونا لازمی ہے۔
7 سال پرانے واقعے کو سی ایس ایس کے پورے نظام کو مجرم ٹھہرانے کے لیے استعمال کرنا صحافتی دیانت داری کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اسے زرد صحافت (یلو جرنلزم) کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وریفکیشن اور اخلاقی حدود کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔