ملک کی اہم ترین شاہراہ قراقرم ایک بار پھر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہو گئی اور سینکڑوں مسافر مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
پٹن ڈاک کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ
مقامی ذرائع کے مطابق لوئر کوہستان کے علاقے پٹن ڈاک کے قریب شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم بند ہوئی۔ مٹی اور پتھروں کے بڑے تودے سڑک پر گرنے سے راستہ مکمل طور پر بلاک ہو گیا جس کے بعد گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
پاکستان اور چین کا زمینی رابطہ منقطع
شاہراہ قراقرم کی بندش کے باعث پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطہ بھی عارضی طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ اس شاہراہ کے ذریعے ہونے والی آمد و رفت متاثر ہونے سے نہ صرف مقامی ٹریفک بلکہ بین الاقوامی تجارت سے منسلک نقل و حمل بھی متاثر ہوئی ہے۔
سیاح اور مسافر شدید مشکلات کا شکار
اطلاعات کے مطابق پاک چین بارڈر کی سیر کے لیے جانے والے متعدد سیاح بھی راستے میں پھنس گئے ہیں۔ ان میں خواتین، بچے، بزرگ اور طلبہ سمیت بڑی تعداد میں مسافر شامل ہیں جو کئی گھنٹوں سے سڑک پر موجود ہیں۔ بعض مسافروں نے اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹی گاڑیوں کے لیے راستہ بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔
شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف مال بردار گاڑیوں اور مسافر بسوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ ٹریفک جام کے باعث نہ صرف عام مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ سامان کی ترسیل بھی رک گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کی کارروائی کا انتظار
مقامی پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سڑک کو جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں وقت لگ سکتا ہے۔
مسافروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہ کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ مسلسل بندش کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ موسم اور حالات مزید دشواری پیدا کر سکتے ہیں۔