فٹبال کی دُنیا کے بے تاج بادشاہ کرسٹیانو رونالڈو نے بڑا اعلان کردیا، شائقین اداس

فٹبال کی دُنیا کے بے تاج بادشاہ کرسٹیانو رونالڈو  نے بڑا اعلان کردیا، شائقین اداس

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ 41 سالہ اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے اسپین کے خلاف ورلڈ کپ کے اہم پری کوارٹر فائنل میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری عالمی ٹورنامنٹ ہوگا، جہاں وہ دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے اس آخری تاریخی سفر سے بھرپور لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔

فٹبال کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے بالآخر بین الاقوامی فٹبال سے اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پینلٹی سے قبل اسلامی کلمات،کیا کرسٹیانو رونالڈو اسلام قبول کرنے والے ہیں، سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز

اسپین کے خلاف سنسنی خیز ناک آؤٹ مرحلے کے میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے 41 سالہ فٹبالر نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ اپنے طویل اور شاندار بین الاقوامی سفر کے آخری لمحات کا حصہ بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس سفر سے جتنا ممکن ہو لطف اٹھانا چاہتا ہوں، یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہوگا، لیکن مجھے امید ہے کہ کل کا میچ (اسپین کے خلاف) میرا آخری میچ ثابت نہیں ہوگا اور ہم ٹورنامنٹ میں مزید آگے جائیں گے۔‘

بیلن ڈی اور ایوارڈز اور کیریئر کی کامیابی کا معیار

5 مرتبہ دنیا کے بہترین فٹبالر کا ’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ جیتنے والے رونالڈو نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے بے مثال کیریئر اور عظمت کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ آیا وہ ورلڈ کپ ٹرافی جیت پاتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط کیریئر میں انہوں نے فٹبال کو اپنا 100 فیصد نہیں بلکہ ’1000 فیصد‘ دیا ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیدیا، مداح افسردہ

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہنا ہی ہے، لیکن وہ جب بھی میدان چھوڑیں گے، ایک مطمئن ضمیر کے ساتھ چھوڑیں گے کیونکہ انہوں نے اپنی ٹیم اور ملک کے لیے ہمیشہ خون پسینہ بہایا ہے۔

عمر پر تنقید کا کرپٹو جواب اور شاندار کارکردگی

بڑھتی ہوئی عمر اور فٹنس پر ہونے والی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پرتگالی کپتان نے کہا کہ وہ اب بھی دنیا کے اعلیٰ ترین سطح کے فٹبال میں بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں۔

رونالڈو نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں فٹبال کسی مجبوری یا مالی ضرورت کے تحت نہیں کھیلتا، بلکہ یہ میرا جنون اور شوق ہے۔

انسان کو اپنی زندگی کے ہر دن سے لطف اٹھانا چاہیے، میں اس جاری ورلڈ کپ میں اب تک 3 گول اسکور کر چکا ہوں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میری کارکردگی اب بھی بہترین ہے۔‘

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں تاریخی ریکارڈز کا قیام

کرسٹیانو رونالڈو نے اس ورلڈ کپ میں بھی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے نئے عالمی ریکارڈز قائم کیے ہیں۔

ٹورنامنٹ کے دوران ازبکستان کے خلاف میچ میں 2 شاندار گول داغ کر وہ فیفا ورلڈ کپ کے 6 مختلف ایڈیشنز (2006، 2010، 2014، 2018، 2022 اور 2026) میں گول اسکور کرنے والے دنیا کے پہلے اور واحد فٹبالر بن گئے ہیں، جو ان کی مستقل مزاجی اور فٹنس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

2 دہائیوں کا بے مثال سفر

کرسٹیانو رونالڈو نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز سال 2003 میں کیا تھا اور وہ پرتگال کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے اور سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

انہوں نے اپنی قیادت میں پرتگال کو 2016 میں پہلی بار یورو کپ کا چیمپئن بنایا۔ فٹبال کی تاریخ میں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کی رقابت نے اس کھیل کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

سال 2026 کا یہ ورلڈ کپ رونالڈو کے مداحوں کے لیے اس لحاظ سے انتہائی جذباتی ہے کیونکہ یہ اس عظیم کھلاڑی کو پرتگال کی جرسی میں دیکھنے کا آخری موقع ہے۔

رونالڈو کی ریٹائرمنٹ اور پرتگالی فٹبال کا مستقبل

کرسٹیانو رونالڈو کا 41 سال کی عمر میں بھی فٹبال ورلڈ کپ جیسے بڑے اسٹیج پر 3 گول کرنا اور 6 ایڈیشنز میں گول کا ریکارڈ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک اتھلیٹک معجزہ ہیں۔

مزید پڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو کا ماورہ حسین کو نئے سال کی مبارکبادکا پیغام : اداکارہ نے اسکرین شاٹ شیئر کر دیا

ان کا یہ بیان کہ ’میرا کیریئر ورلڈ کپ جیتنے یا نہ جیتنے سے طے نہیں ہوگا‘، ان کی ذہنی پختگی اور اس دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جو وہ برسوں سے برداشت کر رہے ہیں۔

پرتگال کے لیے رونالڈو کی ریٹائرمنٹ ایک بہت بڑا خلا پیدا کرے گی، کیونکہ وہ نہ صرف ایک اسٹرائیکر ہیں بلکہ میدان میں ٹیم کے سب سے بڑے رہنما ہیں۔

اسپین کے خلاف پری کوارٹر فائنل اب محض ایک میچ نہیں رہا، بلکہ یہ رونالڈو کے کیریئر کو طول دینے یا اسے ختم کرنے کا فیصلہ کن معرکہ بن چکا ہے۔

دنیا بھر کے شائقین کی ہمدردیاں اور دعائیں اس وقت پرتگالی کپتان کے ساتھ ہیں، جو اپنے کیریئر کا اختتام ایک یادگار انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔

Related Articles