مہنگی امپورٹڈ گیس سے ملا چھٹکارا؟ ’او جی ڈی سی ایل‘ کی بڑی کامیابی، سپلائی شروع

مہنگی امپورٹڈ گیس سے ملا چھٹکارا؟ ’او جی ڈی سی ایل‘ کی بڑی کامیابی، سپلائی شروع

پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ’او جی ڈی سی ایل‘ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کیے گئے ایک سرکاری خط میں اعلان کیا ہے کہ سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع ’سہتو 1‘ کنوئیں سے قدرتی گیس کی تجارتی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

پیداواری صلاحیت اور سپلائی کا طریقہ کار

کمپنی ذرائع کے مطابق ’سہتو 1‘ کنوئیں سے روزانہ کی بنیاد پر 60 لاکھ مکعب فٹ قدرتی گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اس گیس کو قومی نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے 6 انچ قطر کی 5 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی گئی ہے، جس کے ذریعے گیس کو ’سنجھورو‘ پروسیسنگ پلانٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملکی توانائی شعبے کیلئے بڑی خوشخبری، سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

پلانٹ پر ضروری صفائی اور پروسیسنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد یہ گیس ‘سوئی سدرن گیس کمپنی’ کے نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے تاکہ اسے صارفین تک پہنچایا جا سکے۔

مشترکہ سرمایہ کاری اور شراکت داری

یہ اہم دریافت ‘کھیواری’ ایکسپلوریشن لائسنس کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ اس منصوبے میں شراکت داری کے ڈھانچے کے تحت ‘او جی ڈی سی ایل’ کا حصہ 75 فیصد ہے جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ ‘جی ایچ پی ایل’ 25 فیصد حصص کے ساتھ اس منصوبے میں شراکت دار ہے۔

کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے ذخیرے سے ملک میں گیس کی قلت کو کم کرنے اور مقامی سطح پر سستی توانائی کی فراہمی میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

پاکستان کا گیس بحران اور مقامی دریافتوں کی اہمیت

پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے گیس کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں پرانے گیس فیلڈز (جیسے سوئی فیلڈ) میں ذخائر کی مقدار سالانہ 7 فیصد سے 9 فیصد تک کم ہو رہی ہے۔

ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو انتہائی مہنگی ایل این جی (مائع قدرتی گیس) درآمد کرنا پڑتی ہے، جس سے قومی خزانے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔

ماضی قریب میں سنجھورو اور خیرپور کے قریبی علاقوں میں کی جانے والی دریافتوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ سندھ کا یہ خطہ ہائیڈرو کاربن کے وسیع ذخائر سے مالامال ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، ایران سے گیس اور پیٹرول لینے کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت

’سہتو 1‘کی کامیاب کھدائی اور پیداوار کا آغاز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر مقامی سطح پر تلاش کے کام کو تیز کیا جائے تو درآمدی گیس پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

معیشت اور توانائی پر اثرات

’سہتو 1‘کنوئیں سے 60 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس کی پیداوار بظاہر ایک چھوٹا ہندسہ لگ سکتی ہے، لیکن موجودہ معاشی تناظر میں اس کے دور رس اثرات ہوں گے

زرمبادلہ کی بچت

مقامی سطح پر گیس پیدا ہونے سے پاکستان کو اس کے مساوی ایل این جی درآمد نہیں کرنی پڑے گی، جس سے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بچے گا۔

صنعتی شعبے کو ریلیف

 سندھ کے صنعتی علاقوں، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کی انڈسٹریز کو گیس کے پریشر میں بہتری ملنے کی امید ہے، جس سے پیداواری لاگت کم ہوگی۔

سٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر

’او جی ڈی سی ایل‘ کے اس اعلان سے انرجی سیکٹر کے شیئرز میں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرے گا۔

چیلنج

اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا یہ نئی دریافتیں ملکی گیس کے ذخائر میں ہونی والی تیز رفتار کمی کا متبادل بن سکتی ہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی مزید 10 سے 15 دریافتوں کی فوری ضرورت ہے۔

Related Articles