پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، ایران سے گیس اور پیٹرول لینے کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت

پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، ایران سے گیس اور پیٹرول لینے کے منصوبے پر نمایاں پیش رفت

ایران سے گیس اور پیٹرول کے حصول کے حوالے سے پاکستان اور ایران کے درمیان آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے متعلق پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد دونوں ممالک نے توانائی تعاون کے منصوبوں پر دوبارہ غور شروع کر دیا ہے اس حوالے سے دونوں ممالک کے مابین ابتدائی ہوم ورک مکمل ہوگیا ہے  اور منصوبوں کو عملی شکل دینے کیلئے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں ان کے دورہ کے دوران جہاں دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات زیر غور آئیں گے وہیں پر تیل اور گیس کے منصوبوں پر پیش رفت کیلئے بھی خصوصی بات چیت کا امکان ہے۔ قبل ازیں امریکا معاہدے کے بعد اس حوالے سے وزارت توانائی اور پلاننگ ڈویژن میں متعلقہ حکام منصوبوں پر کام سے متعلق ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ التوا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کے امکانات پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایران کے بڑے گیس ذخائر سے پاکستان کو قدرتی گیس کی فراہمی ہے تاہم ماضی میں امریکی پابندیوں اور مالی مشکلات کے باعث اس پر پیش رفت تعطل کا شکار رہی۔

گیس پائپ لائن کتنی طویل ہے؟

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مجموعی لمبائی مختلف رپورٹس میں تقریباً 2775 کلومیٹر تک بیان کی گئی ہے۔ منصوبہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے شروع ہو کر پاکستان تک پہنچنا ہے۔ ایران کی جانب سے پائپ لائن کا بڑا حصہ مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ پاکستان میں باقی ماندہ حصے کی تعمیر طویل عرصے سے رکی ہوئی ہے۔

ایرانی حصے میں پائپ لائن تقریباً 1170 کلومیٹر کے قریب بتائی جاتی ہے جو ایران کے اندر مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی پاکستان سرحد تک پہنچتی ہے۔ پاکستان کے حصے میں پائپ لائن تقریباً 780 کلومیٹر کے قریب ہوگی۔

پاکستان میں کن علاقوں سے گزرے گی؟

مجوزہ روٹ کے مطابق گیس پائپ لائن ایران سے بلوچستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوگی۔ پاکستان میں یہ پائپ لائن بلوچستان کے علاقوں سے گزرتی ہوئی سندھ تک جائے گی جبکہ منصوبے کے تحت ایک شاخ بلوچستان کے علاقے خضدار سے کراچی کی طرف جبکہ مرکزی لائن سندھ سے ہوتی ہوئی پنجاب کے شہر ملتان تک پہنچے گی جس کے بعد پنجاب کے دیگر اضلاع تک اس کا دائرہ کار بڑھایا جائیگا

بھارت منصوبے سے کیسے الگ ہوا؟

ابتدائی طور پر اس منصوبے کو ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن (IPI) کہا جاتا تھا جس میں بھارت کو بھی شامل کرنے کا منصوبہ تھا تاہم بھارت کو بعد میں اس منصوبے سے الگ کر دیا گیا جس کے بعد یہ منصوبہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان رہ گیا ہے

ایرانی پیٹرول کی درآمد پر بھی غور

امریکی پابندیوں میں حالیہ نرمی کے بعد ایران کی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی فروخت کے امکانات بڑھے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان بھی ایران سے پیٹرول اور توانائی کے دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ایران سے آنے والے کروڈ آئل کو پیٹرول وڈیزل پر منتقل کرنے کیلئے الگ سے ریفائنری کی ضرورت ہوگی تاہم ابتدائی طور پر تیار شدہ ایرانی تیل اور ڈیزل بھی امپورٹ کیا جاسکتا ہے

اگر پاکستان ایران سے گیس اور پیٹرول کے حصول میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کے توانائی ذرائع میں تنوع آ سکتا ہے درآمدی اخراجات میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں اور سرحدی علاقوں میں توانائی کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق اس معاملے پر تکنیکی سفارتی اور مالی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی پیش رفت کو بین الاقوامی قوانین اور دستیاب مواقع کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد اچانک گر گئیں،پیٹرول وڈیزل مزید سستا ہونے کا امکان

editor

Related Articles