پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف ملکی توانائی کے ذخائر میں اضافہ کرے گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
او جی ڈی سی ایل کے ترجمان کے مطابق بوبی ڈیپ ون نامی کنویں سے ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران یومیہ تقریباً 2 ہزار بیرل خام تیل حاصل ہوا ہے جبکہ اسی کنویں سے روزانہ 1.1 ملین مکعب فٹ گیس بھی پیدا ہو رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور اس دریافت سے علاقے میں مزید تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق نئی دریافت ملک میں تیل و گیس کی مجموعی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی جس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ خرچ کرکے درآمد کیے جانے والے ایندھن کی ضرورت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور ملکی درآمدی بل میں بھی خاطر خواہ کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مزید کامیاب دریافتیں پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے قریب لے جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں تیل اور گیس کی مقامی پیداوار میں اضافے کو توانائی کے بحران پر قابو پانے اور اقتصادی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے، اسی لیے نئی دریافت کو توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔