وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پانی پاکستان کی زندگی کی بنیاد ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی پر حق مکمل طور پر برقرار ہے اور اسے کسی صورت متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
ایکس پراپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی جواز،ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سندھ طاس معاہدہ: بھارت تاحال اپنے اقدامات کی وضاحت پیش کرنے میں ناکام
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے اور اس سے پاکستان کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا، انہوں نے مزید ک کہ بھارت کو اپنے اس مؤقف پر عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ اصول ایک پانی، ایک وژن کے بھی منافی ہے جبکہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورم پر مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتا رہے گا۔
Pakistan’s right to water under the IWT is its inalienable right, it is our lifeline which we will protect. India’s unilateral failed attempt of holding IWT in abeyance has no legal or moral standing. This act has caused India nothing but embarrassment. It is a clear violation of…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) July 6, 2026

