سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد حنیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں سے کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا نقصان پہنچا، عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے۔
عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر ہڑتال کی کال ناکام ہوئی تو ان سے بنیادی حقوق اورحکومتی مراعات چھین لی جائیں گی، جبکہ حکومت آزاد کشمیر پہلے ہی عوام کو سستا آٹا اور سستی بجلی کے حوالے سے بڑی سبسڈی دے چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی انتخابات میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری عمل پر براہ راست حملہ ہے ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف نہیں، لیکن اپنی تقاریر میں عوام کو اکساتے ہیں اور پاک فوج کے جوانوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔
کالعدم تنظیم نے سول نافرمانی پر اکسانے کے لیے خود کو کبھی رجسٹرڈ نہیں کروایا، جبکہ ماضی کے پرتشدد واقعات کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دیا گیا،سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے مدد لے رہی ہے، جو بھارتی فنڈنگ سے یورپ میں کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے سرغنوں اور شرپسندوں پر 79 ایف آئی آرز درج ہیں ولائی کی ہڑتال کی کال عوام اور تاجروں نے مکمل طور پر مسترد کر دی کیونکہ کشمیر کے غیور عوام معاشی ریلیف چاہتے ہیں، شرپسندوں کی پھیلائی بدامنی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ اور سدھنوتی کے عوام کی زندگی خوف و ہراس پھیلا کر اجیرن بنائی گئی، نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر ڈنڈے تھما دیئے گئے، جبکہ جلسوں اور دھرنوں میں “غیر ملکی قابضو کشمیر ہمارا چھوڑ دو”، بند مطلب بند”، ” اور “سہولتکارو سن لو ہم تمہاری موت ہیں” جیسے ریاست اور فوج مخالف نعرے لگائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سرغنوں کے کھوکھلے بیانات نے کمیٹی کی حقیقت عیاں کر دی ہے اور خود مختاری کے حوالے سے ریاست کے خلاف تقاریر میں آزاد کشمیر کو الگ ریاست بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو غیر ملکی فورسز قرار دیا جاتا ہے اور منگلا سے بجلی کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2023 میں شرپسند جتھے نے اسسٹنٹ کمشنر ڈڈیال کے دفتر پر حملہ کیا اور سرکاری گاڑی جلائی،اسلام گڑھ میں سب انسپکٹر عدنان قریشی کو گولی مار کر شہید کیا گیا، اے سی کھوئی رٹہ کی گاڑی نذر آتش کی گئی اور سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھینا گیا۔
نومبر 2024 میں اسلام آباد پولیس کو یرغمال بنا کر ان کی وردیاں اتاری گئیں اور پلاک میرپور میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چمیاٹی دھیرکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر امجد قادر پر خنجر سے حملہ کر کے قتل کی کوشش کی گئی جبکہ ایس پی باغ ریاض مغل سمیت دیگر اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
دھیرکوٹ میں فائرنگ سے تین پولیس اہلکار اور دو سول افراد شہید ہوئے، راستے بند کرنے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹے گئے اور ہجیرہ میں جبراً بازار بند کرا کر اشیائے خورد و نوش کے ٹرک لوٹے گئے۔انہوں نے کہا کہ سرغنہ عمر نذیر نے کھلے عام دکانداروں کو نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں۔