کراچی میں واقع بحریہ آئیکون ٹاورز سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت قومی احتساب بیورو نے اس عمارت کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور اس عمارت کی مالیت ایک سو ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت راولپنڈی نے بحریہ آئیکون ٹاورز کی ضبطی کی توثیق کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد نیب نے عمارت کا انتظام مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے تاکہ اس کے امور کو عارضی طور پر چلایا جا سکے۔
بحریہ آئیکون ٹاورز کی تعمیر میں غیر قانونی رقوم کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ اس کیس کو گلیکسی کنسٹرکشن سے متعلق تحقیقات کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مالی بے ضابطگیوں اور مشتبہ لین دین کے پہلوؤں کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منصوبے کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے ذرائع شفاف نہیں تھے، جس پر مزید تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیب حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس منصوبے میں شامل فنڈز کہاں سے آئے اور ان کا استعمال کس طریقے سے کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جبکہ متعلقہ افراد سے بھی مزید پوچھ گچھ متوقع ہےنیب حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام کارروائی قانون کے مطابق اور شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے تاکہ مالی بے ضابطگیوں کے مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔