وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک بہیمانہ قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں ، یہ کل کو شاید چوری ڈکیتی کا کریڈٹ لینا بھی شروع کردیں
ان کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو شاید پاکستان میں چوری، ڈکیتی اور عام جرائم کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں مقصد صرف کریڈٹ لینا ہے، حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے انہیں کوئی غرض نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گروہ ہر واقعے کو اپنے مفاد کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور سچائی کو مسخ کر کے عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد صرف پروپیگنڈا کرنا اور اپنی موجودگی کا تاثر برقرار رکھنا ہوتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نے 9th ایونیو پر ایک خاتون کو مبینہ اغوا سے بچانے کے لیے مداخلت کی، جس دوران انہیں گولیاں مار دی گئیں اور وہ شہید ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق 9th ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک خاتون موٹرسائیکل سے اتر رہی تھی جبکہ موٹرسائیکل سوار اس کا ہاتھ کھینچ رہا تھا۔
پولیس کے مطابق انہوں نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اپنی گاڑی موڑ کر موٹرسائیکل کے قریب روکی، جس پر خاتون بھاگ کر ان کی گاڑی کی دوسری جانب آ گئی۔ اس دوران سعد نامی ملزم کی گروپ کیپٹن عاصم طارق سے تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد اس نے فائرنگ کر دی شدید زخمی ہونے والے پی اے ایف افسر بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ایک بہیمانہ قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں۔ ان کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو شاید پاکستان میں چوری، ڈکیتی اور عام جرائم کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں۔ مقصد صرف کریڈٹ لینا ہے، حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ https://t.co/tGYCtFgEFl
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 6, 2026

