بڑی خوشخبری ، حکومت نے تاریخی زر عی پیکج کا اعلان کر دیا

بڑی خوشخبری ، حکومت نے تاریخی زر عی پیکج کا اعلان کر دیا

پنجاب حکومت نے بے زمین اور کم وسائل رکھنے والے کسان خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے ایک نئی زرعی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت مستحق افراد کو سرکاری قابلِ کاشت زرعی زمین نہایت معمولی سالانہ لیز پر فراہم کی جائے گی۔

منصوبے کا مقصد ایسے خاندانوں کو روزگار کے بہتر مواقع دینا، زرعی شعبے کو مضبوط بنانا اور دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے “اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کے تحت کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے بے زمین خاندانوں میں سرکاری زرعی اراضی کی الاٹمنٹ کے عمل کا آغاز کیا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے ایک لاکھ 21 ہزار ایکڑ قابلِ کاشت سرکاری زمین مختص کی گئی ہے۔ ہر کامیاب خاندان کو چار ایکڑ زمین سالانہ صرف 100 روپے لیز پر دی جائے گی تاکہ وہ باقاعدہ کاشتکاری شروع کر سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :کسان کارڈ پروگرام کی دوسری قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان

اس منصوبے میں صرف زمین ہی نہیں بلکہ کاشت کے ابتدائی اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر منتخب خاندان کو دو لاکھ روپے کی مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس امداد سے کسان بیج، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر ضروری سامان خرید کر بہتر انداز میں فصل اگا سکیں گے جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اسکیم کے لیے تقریباً 60 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 11 ہزار خواتین کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔ ان کے مطابق قرعہ اندازی کا پورا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا اور کسی قسم کی سفارش یا سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا گیا۔ منتخب درخواست گزاروں کو ایک ہفتے کے اندر الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے جائیں گے جبکہ 31 جولائی تک انہیں زمین کا قبضہ دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پنجاب حکومت کا کسانوں سے گندم خریداری کا اعلان، قیمت تین ہزار پانچ سو روپے فی من مقرر

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد بے زمین خاندانوں کو معاشی خودمختاری فراہم کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور دیہی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔ مزید یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پنجاب میں جہاں جہاں قابلِ کاشت سرکاری اراضی دستیاب ہوگی اسے مرحلہ وار دیگر مستحق خاندانوں میں بھی تقسیم کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

editor

Related Articles