یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی تشکیل پانے والی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے اپنی برانڈ شناخت تبدیل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ کمپنی انتظامیہ نے نئی برانڈنگ کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے باضابطہ منظوری طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیلی نار پاکستان کے یوفون میں انضمام کے بعد کمپنی ایک نئی شناخت کے ساتھ مارکیٹ میں آنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئی برانڈنگ کے لیے متحدہ عرب امارات کی معروف ٹیلی کام کمپنی اتصالات گروپ کے عالمی برانڈ نام “ای اینڈ (e&)” کو اختیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی حتمی منظوری کے بعد ٹیلی نار پاکستان کو قانونی طور پر پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) میں ضم کر دیا گیا ہےجو یوفون کا قانونی ادارہ ہے۔ انضمام کے بعد ملک میں ایک بڑی موبائل کمپنی کے قیام کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
پی ٹی اے نے نئی برانڈ شناخت کی منظوری کے معاملے میں کمپنی سے متعلق مزید قانونی دستاویزات طلب کی ہیں۔ اتھارٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے ضم شدہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق نوٹیفکیشن بھی مانگا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ایس ای سی پی کی ضروری منظوریوں اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بغیر نئی برانڈنگ یا کسی بڑے تشہیری منصوبے کا آغاز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بعض حکام نے نئی برانڈ شناخت کے حوالے سے قانونی پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے۔ حکام کے مطابق پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ براہِ راست اتصالات کی ملکیت نہیں بلکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی ذیلی کمپنی ہے، اس لیے “ای اینڈ” برانڈ کے استعمال کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر نئی کمپنی اتصالات کے عالمی برانڈ نام کو استعمال کرتی ہے تو اسے برانڈ حقوق، لائسنسنگ معاہدوں اور ممکنہ رائلٹی سے متعلق معاملات طے کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کو پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن صنعت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اس انضمام کے بعد نئی کمپنی کو زیادہ بڑے صارف نیٹ ورک، وسیع انفراسٹرکچر اور مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً فائیو جی سروسز کے فروغ کے لیے بہتر پوزیشن حاصل ہونے کی توقع ہے۔