ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کا جسدخاکی قم منتقل کردیا گیا جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق نمازِ جنازہ شہر کے مضافات میں واقع مسجد جمکران میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد نے شرکت کی، خبررساں ایجنسی رائٹرز نے سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جس میں جلوس جنازہ میں شریک افراد کو دکھایا گیا ہے۔
جلوس جنازہ امام حسین اسکوائر ، انقلاب اسکوائر ، آزادی اسکوائر اور شہید لشگری ہائی وے سے ہوتا ہوا مہرآباد ائیرپورٹ پر 12 گھنٹے بعد ختم ہوا۔
سیاہ لباس پہنے ہوئے غمزدہ لوگوں نے ان تابوتوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، جن میں خامنہ ای کی چودہ ماہ کی معصوم نواسی کا چھوٹا سا تابوت بھی شامل تھا۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہل خانہ کی میتیں 8 جولائی کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جا ئی جائیں گی جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایران میں اس وقت چھ روزہ سرکاری سوگ کی تقریبات جاری ہیں جن کا اختتام جمعرات کو مشہد میں خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ہوگا۔
یاد رہے کہ آیت اللّٰہ خامنہ ای کو امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو تہران پر بمباری کرکے شہید کردیا تھا، حملے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی بہو اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوئی تھیں۔