ایبٹ آباد کے نوجوان کا منفرد تصور، کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی تیار کر لی

ایبٹ آباد کے نوجوان کا منفرد تصور، کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی تیار کر لی

ایبٹ آباد کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ طالب علم احسان ظفر عباسی اپنے منفرد انجینیئرنگ آئیڈیاز کی بدولت مقامی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ پری انجینیئرنگ کے طالب علم احسان محدود وسائل کے باوجود پرانے الیکٹرانک آلات پر تجربات کرتے رہتے ہیں اور مشینوں کے کام کرنے کے طریقے کو نئے انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

باغ کے علاقے میں واقع اپنے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں، جہاں اکثر صرف ایک بلب کی مدھم روشنی ہوتی ہے، احسان گھنٹوں پرانے الیکٹرانک پرزے کھول کر ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی تجربات انہیں نئی ٹیکنالوجی سیکھنے اور مختلف خیالات کو عملی شکل دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چین کا انوکھا روف ٹاپ رین سسٹم، گنجان شہروں کو ٹھنڈا رکھنے کا سستا طریقہ وائرل

احسان کا سب سے منفرد تصور ’’کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی‘ہے۔ ان کے مطابق وہ ایسی گاڑی کا تصور پیش کر رہے ہیں جسے کمپیوٹر کے کی بورڈ کی طرز پر دی جانے والی کمانڈز کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ خیال انہیں بچپن میں مقبول ویڈیو گیمز جی ٹی اے ،وائس سٹی اور نیڈ فار سپیڈ کھیلتے ہوئے آیا، جنہیں وہ اپنے گاؤں میں بجلی آنے کے محدود اوقات میں کھیل پاتے تھے۔

احسان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف ایک منفرد گاڑی بنانا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود تخلیقی سوچ اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ انسان کو نئے راستے دکھا سکتا ہے۔ وہ زیادہ تر چیزیں خود سیکھتے ہیں اور پرزوں پر تجربات کرکے انجینیئرنگ کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :استعمال شدہ آئی فون خریدنے سے پہلے یہ اہم باتیں ضرور جان لیں

ان کے اس منفرد تصور نے مقامی سطح پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر گفتگو جاری ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اگر ایسے باصلاحیت نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مستقبل میں ملک کے لیے اہم تکنیکی ایجادات متعارف کرا سکتے ہیں۔

اگرچہ احسان کا ’’کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی‘‘ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم ان کی تخلیقی سوچ اس بات کی مثال ہے کہ اختراع صرف جدید لیبارٹریوں میں نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں محدود وسائل کے ساتھ بھی جنم لے سکتی ہے۔

editor

Related Articles