وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے کامیاب مذاکرات کے بعد زیارت کراس پر جاری دھرنا ختم کر دیا گیا اور شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زیارت کراس پہنچ کر دھرنے کے شرکاء سے براہِ راست ملاقات کی، ان کے مطالبات اور تحفظات تفصیل سے سنے اور مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے مظاہرین کے مطالبات پر غور اور قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی، جبکہ دھرنے کے نمائندہ وفد کو تفصیلی مذاکرات اور مطالبات پیش کرنے کے لیے چیف منسٹر سیکرٹریٹ مدعو کر لیا،انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کے جائز مطالبات کو قانون، میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔
اس موقع پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دشمن بلوچستان پر دو طرف سے حملہ آور ہے، ایک جانب معصوم شہریوں کو قتل کر رہا ہے اور دوسری جانب لوگوں کا روزگار متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سب کا الزام بھی ریاستی اداروں پر عائد کیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ پوری قوم اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب ہے اور اختلافات یا شکایات کا حل صرف مذاکرات، باہمی اعتماد اور آئینی و قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن، بھائی چارے اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
وزیراعلیٰ کی یقین دہانی اور مثبت پیش رفت کے بعد مظاہرین نے زیارت کراس پر جاری دھرنا ختم کرنے اور شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد آمدورفت معمول پر آ گئی۔