ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر کی قیادت میں پنجاب واسا کا اعلیٰ سطحی وفد جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے ڈنمارک اور پرتگال کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گیا ہے۔
ڈنمارک میں وفد نے امپیکٹ فنڈ ڈنمارک کے حکام سے ملاقات کی، جہاں ڈائریکٹر جنرل پنجاب واسا طیب فرید نے پنجاب میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر شعیب سرور بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران پنجاب میں ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مستقبل میں مشترکہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد کو پنجاب کے پہلے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق 33 ملین گیلن یومیہ (33 ایم جی ڈی) استعداد کے حامل پنجاب کے پہلے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کام جاری ہے، جبکہ اس منصوبے کے لیے امپیکٹ فنڈ ڈنمارک کی جانب سے 19 کروڑ 25 لاکھ یورو کا بلاسود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے پنجاب میں گندے پانی کی صفائی، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ منصوبے کو سال 2028 میں آپریشنل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفد میں چیئرمین پنجاب واسا چودھری شیر علی خان، پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ سلطان باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ پنجاب کا یہ اعلیٰ سطحی وفد 5 سے 13 جولائی 2026 تک ڈنمارک اور پرتگال کے سرکاری دورے پر ہے، جس کا مقصد جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی سے استفادہ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔