پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہونے والے ایک ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کو ایوان میں داخل ہوتے وقت ارکانِ اسمبلی کو سیلوٹ نہ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ معاملے پر ارکان نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد ڈی پی او نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے غیرمشروط معافی مانگ لی۔
پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تحریکِ استحقاق کے سلسلے میں متعلقہ ڈی پی او کو طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس کے دوران جیسے ہی باوردی پولیس افسر ایوان میں داخل ہوئے بعض ارکانِ اسمبلی نے اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ انہوں نے ایوان میں موجود منتخب نمائندوں کو سیلوٹ نہیں کیا۔
اجلاس کے دوران ایک رکنِ اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب کوئی باوردی افسر ایوان میں داخل ہوتا ہے تو ارکانِ اسمبلی کو سیلوٹ کرنا نہ صرف پارلیمانی روایات بلکہ ایوان کے احترام کا بھی تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو ایوان کی توقیر کے منافی قرار دیتے ہوئے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
اعتراضات سامنے آنے پر ڈی پی او نے فوری طور پر اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے استحقاق کمیٹی اور ارکانِ اسمبلی سے غیرمشروط معافی مانگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے معاملات میں پارلیمانی روایات اور ایوان کے تقدس کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔
ڈی پی او کی معذرت کے بعد کمیٹی کے ارکان نے معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹا دیا اور مزید کارروائی کیے بغیر اجلاس کا ایجنڈا آگے بڑھا دیا۔