بھارت کے لیے ایک اور شرمندگی، گجرات میں بھارتی بحریہ کا اسرائیلی ساختہ ڈرون گر کر تباہ

بھارت کے لیے ایک اور شرمندگی، گجرات میں بھارتی بحریہ کا اسرائیلی ساختہ ڈرون گر کر تباہ

بھارت کے ملٹری ایوی ایشن فلیٹ کو اس وقت ایک اور بڑی عالمی شرمندگی اور مالی و دفاعی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی بحریہ کا ایک انتہائی مہنگا اور جدید ترین بغیر پائلٹ کے اڑنے والا طیارہ (یو اے وی) ریاست گجرات میں گر کر تباہ ہو گیا۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بحریہ کا یہ درشتی۔10 ڈرون پوربندر کے ساحلی علاقے کے قریب گر کر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

بھارتی بحریہ کے ترجمان اور دفاعی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حادثہ ایک معمول کی تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی فضائیہ کی رسوائی کا سلسلہ جاری ، ایک اور طیارہ گر کر تباہ

حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کے کھلے علاقے میں گرنے کی وجہ سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی سویلین املاک کو نقصان پہنچا، تاہم اربوں روپے مالیت کا یہ جدید ترین جاسوس طیارہ مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا ہے۔

بحریہ نے حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی (بورڈ آف انکوائری) قائم کر دی ہے۔

اسرائیلی ٹیکنالوجی اور اڈانی گروپ کا مشترکہ منصوبہ ناکام

تباہ ہونے والا درشتی۔10 ڈرون بھارت کے اس نام نہاد جدید ڈرون پروگرام کا حصہ ہے جس کی تشہیر بھارتی حکومت دنیا بھر میں کر رہی تھی۔

یہ یو اے وی دراصل اسرائیل کے مشہورِ زمانہ ’ہرمیس 900‘ ڈرون کی نقل ہے، جسے مودی حکومت کے قریبی دوست گوتم اڈانی کی کمپنی ’اڈانی ڈیفنس‘ نے اسرائیل کی دفاعی کمپنی ’البٹ سسٹم‘ کے ساتھ مشترکہ اسٹریٹجک اشتراک کے تحت تیار کیا ہے۔

اس ڈرون کو بھارتی بحریہ کی آنکھ اور کان قرار دیا جا رہا تھا، جسے بحرِ ہند اور ساحلی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، نگرانی کرنے اور جاسوسی کے انتہائی حساس مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس نوعیت کے اسٹریٹجک اثاثے کا گرنا ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر اس کی اسمبلنگ میں سنگین نقائص موجود ہیں۔

بھارتی ایوی ایشن اثاثوں کی گرتی ہوئی ساکھ اور حادثات کی تاریخ

اس تازہ ترین حادثے نے ایک بار پھر بھارتی مسلح افواج کے فضائی اثاثوں کی قابلِ اعتماد کارکردگی، سیفٹی پروٹوکولز اور مینٹیننس (دیکھ بھال) کے ناقص معیار کا پول کھول دیا ہے۔

ماضی میں بھارتی فضائیہ کے مگ۔21 اور دیگر لڑاکا طیاروں کے پے در پے حادثات نے بھارتی فورسز کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جہاں بھارتی طیاروں کو ’اڑتے ہوئے تابوت‘ تک کا نام دیا گیا اور اب بحریہ کے جدید ترین خودکار نظام کا اس طرح گرنا بھارت کے درآمدی اور مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی آلات کے فیوز ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ مودی حکومت کی جانب سے دفاعی شعبے میں ’میک ان انڈیا‘ کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود، معمول کے آپریشنز کے دوران اس طرح کے حادثات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی فوج جدید وارفیئر اور ٹیکنالوجی کو سنبھالنے کی اہل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ

بھارت حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کے خلاف اپنی جاسوسی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اسرائیل اور امریکا سے بڑے پیمانے پر ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر رہا ہے۔

اڈانی ڈیفنس نے فروری 2024 میں انکشاف کیا تھا کہ وہ بھارتی بحریہ کے لیے ہرمیس 900 پر مبنی درشتی۔10 ڈرونز فراہم کر رہے ہیں۔

بھارت کے ساحلی علاقے پوربندر کو اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان کی سمندری حدود کے قریب واقع ہے اور یہاں سے بحرِ ہند کے تجارتی راستوں پر نظر رکھی جاتی ہے۔

بھارتی فضائیہ اور بحریہ میں طیاروں کے گرنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کی بڑی وجوہات میں ناقص پرزہ جات کا استعمال، پائلٹس کی نامکمل تربیت اور مقامی طور پر اسمبل کی گئی ٹیکنالوجی میں فنی خرابیاں شامل ہیں۔

اڈانی ڈیفنس اور کرپشن پر سوالات

 مودی حکومت کی جانب سے دفاعی ٹھیکے تجربہ کار سرکاری اداروں کے بجائے نجی صنعت کار گوتم اڈانی کے حوالے کرنے پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے تھے۔

اس جدید ڈرون کی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کے تحت دیے گئے ٹھیکوں کے نتیجے میں ناقص دفاعی پیداوار سامنے آ رہی ہے۔

اسرائیلی ٹیکنالوجی کا فیل ہونا

 ہرمیس 900 کو دنیا کے محفوظ ترین ڈرونز میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن بھارتی بحریہ میں شامل ہوتے ہی اس کا گرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یا تو بھارتی انجینئرز اس کی دیکھ بھال کی صلاحیت نہیں رکھتے یا پھر اسرائیل بھارت کو سیکنڈ کلاس ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔

آپریشنل کمزوری کا انکشاف

 پوربندر جیسے حساس علاقے میں، جہاں بھارت پاکستان پر نظر رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہاں اس کے اہم ترین جاسوس ڈرون کا گرنا خطے میں بھارت کے سیکیورٹی بلبلے کو پھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ حادثہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگی حالات میں بھارت کا خودکار دفاعی نظام کس قدر ناقابلِ اعتماد ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles