اب صرف 70 اور 125 نہیں، ہونڈا پاکستان میں دو نئی بائیکس لانچ کرنے کے لئے تیار

اب صرف 70 اور 125 نہیں، ہونڈا پاکستان میں دو نئی بائیکس لانچ کرنے کے لئے تیار

اٹلس ہونڈا پاکستان میں پریمیم موٹرسائیکلوں کے شعبے میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے اشارہ دیا ہے کہ اگر زیادہ طاقتور انجن والی موٹرسائیکلوں کی طلب میں اسی طرح اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں 500سی سی اور 250سی سی موٹرسائیکلیں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔

یہ انکشاف اٹلس ہونڈا کی مالی سال 2026 (MY26) کی کارپوریٹ بریفنگ کے دوران کیا گیا، جس میں ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی شرکت کی۔ کمپنی کی انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں بڑے انجن والی موٹرسائیکلوں کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بڑھنے والی ترسیلاتِ زر بھی ہیں۔ اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی اپنی روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر نئی کیٹیگری میں داخل ہونے پر غور کر رہی ہے۔

بریفنگ کے دوران انتظامیہ نے پیداواری صلاحیت میں اضافے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔ اس وقت اٹلس ہونڈا کی سالانہ پیداواری صلاحیت 16 لاکھ 50 ہزار موٹرسائیکلوں کی ہے، جسے جاری توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد دسمبر 2026 تک بڑھا کر 20 لاکھ یونٹس سالانہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 5 سے 6 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے اٹلس ہونڈا اپنی مقررہ پیداواری صلاحیت سے بھی زیادہ موٹرسائیکلیں تیار کر رہی ہے، جس کے لیے اوور ٹائم اور وینڈر نیٹ ورک کی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوزوکی آلٹو کے مقابلے میں نئی گاڑی مارکیٹ میں آگئی، قیمت اور فیچرز جانئے

انتظامیہ نے بتایا کہ پاکستان میں مجموعی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ بحال ہو کر تقریباً 23 لاکھ یونٹس تک پہنچ چکی ہے، تاہم چینی موٹرسائیکل برانڈز کی فروخت اپنے ماضی کے عروج کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب 100cc سے زیادہ انجن گنجائش رکھنے والی موٹرسائیکلوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے اس شعبے کا مارکیٹ شیئر بھی بڑھ رہا ہے۔

الیکٹرک وہیکلز کے حوالے سے کمپنی کا کہنا تھا کہ فی الحال نئی سرمایہ کاری کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، کیونکہ موجودہ پیداواری سہولیات متوقع طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اٹلس ہونڈا نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں حکومتی ٹیکسوں اور ڈیوٹیز سے متعلق ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ کمپنی کو امید ہے کہ زرعی آمدنی میں بہتری مستقبل میں بھی موٹرسائیکلوں کی فروخت کو سہارا دیتی رہے گی۔

Related Articles