بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ ویڈیو پر بڑا تنازع، آئی سی سی نے انگلش کرکٹ بورڈ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ ویڈیو پر بڑا تنازع، آئی سی سی نے انگلش کرکٹ بورڈ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے انگلینڈ کے سابق کپتان بین اسٹوکس کی ڈریسنگ روم میں کی گئی ریٹائرمنٹ تقریر کی ویڈیو وقت سے پہلے پبلک کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے باقاعدہ وضاحت طلب کر لی ہے۔

آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ لائیو میچ کے دوران ڈریسنگ روم کے اندرونی مناظر اور آڈیو جاری کرنا کوڈ آف کنڈکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر انگلش بورڈ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ضوابط کی خلاف ورزی اور آئی سی سی کا مؤقف

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بین اسٹوکس نے میچ شروع ہونے سے قبل ڈریسنگ روم میں ساتھی کھلاڑیوں کو اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور اس موقع پر ایک جذباتی تقریر بھی کی تھی۔

تاہم ای سی بی کے میڈیا سیل نے اس حساس ویڈیو کو ٹیسٹ میچ کے باقاعدہ اختتام سے پہلے ہی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر نشر کر دیا۔

آئی سی سی کے قوانین کے تحت سیکیورٹی اور میچ فکسنگ کے خطرات کے پیشِ نظر دورانِ میچ ڈریسنگ روم کی کوئی بھی آڈیو یا ویڈیو پبلک نہیں کی جا سکتی اور ایسی تمام سرگرمیاں کھیل کے اختتام کے بعد ہی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔

واقعے کا پس منظر

انگلینڈ کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور سابق کپتان بین اسٹوکس نے حال ہی میں ٹیسٹ کرکٹ سے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے کرکٹ دنیا کو حیران کر دیا تھا۔

انہوں نے اپنے آخری میچ کے آغاز سے قبل الوداعی تقریر کی، جسے ای سی بی کے کیمرہ مین نے ریکارڈ کیا۔ انگلش بورڈ کی جانب سے جوش و خروش میں یہ ویڈیو میچ کے اختتامی روز کا انتظار کیے بغیر، کھیل کے دوران ہی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی، جس نے فوری طور پر پوری دنیا میں ہلچل مچا دی اور آئی سی سی کو ایکشن لینے پر مجبور کیا۔

معاملے کا گہرائی سے تجزیہ

یہ تنازع محض ایک ویڈیو کے وقت سے پہلے نشر ہونے کا نہیں، بلکہ کرکٹ کی گورننگ باڈی کے وضع کردہ پروٹوکولز کی پاسداری کا ہے۔

ڈریسنگ روم کو کرکٹ میں ایک انتہائی نجی اور محفوظ جگہ تصور کیا جاتا ہے جہاں حکمتِ عملی تیار ہوتی ہے۔ دورانِ میچ وہاں کی آڈیو یا ویڈیو کا باہر آنا کھیل کی شفافیت پر سوالات اٹھا سکتا ہے۔

ای سی بی جیسے پیشہ ور بورڈ سے اس طرح کی سنگین غلطی کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اگرچہ ای سی بی کا مقصد بین اسٹوکس کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا، لیکن اس جلد بازی نے ایک اچھے لمحے کو تنازع میں بدل دیا۔

اب ای سی بی کو آئی سی سی کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ اقدام جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا، بصورتِ دیگر انگلش بورڈ پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles