جمہوریہ کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات کی۔
کروشیا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے بھی علیحدہ ملاقات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کروشین وزیر خارجہ اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور کروشیا کے مابین دوستانہ تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔
انہوں نے کروشیا کے صدر زوران میلانوویچ اور وزیراعظم آندرے پلینکوویچ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور انہیں پاکستان کے دورے کی پُرخلوص دعوت بھی دی۔
مختلف شعبوں میں شراکت داری اور افرادی قوت کی برآمد پر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران پاکستان کی اس خواہش کا اعادہ کیا کہ وہ کروشیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور روابط (کنیکٹیویٹی) کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے خاص طور پر پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کروشیا کی ترقیاتی ضروریات کے لیے مختلف شعبوں میں اپنے ماہرین فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
کروشیا کے وزیر خارجہ نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کا دورہ ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان اور اس کی قیادت کے نمایاں کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا اور کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزارتِ خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات اور یورپی یونین کا کردار
بعد ازاں کروشین وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمان نے وزارتِ خارجہ کا دورہ کیا جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
روایتی مصافحے کے بعد اسحاق ڈار نے معزز مہمان کا وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے تعارف کرایا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور مضبوط تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان یورپی ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی روابط کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کروشین ہم منصب کو پاک بھارت تعلقات کی موجودہ صورتحال، حالیہ کشیدگی اور جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی چیلنجز سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت
مشترکہ گفتگو کے دوران کروشیا کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کی جانب سے دی گئی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے مابین پہلے ہی بہترین تعلقات قائم ہیں، تاہم موجودہ دور میں اقوامِ عالم کو متعدد عالمی اور علاقائی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کروشین وزیر خارجہ نے زور دیا کہ ان پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنے اور کثیر الجہتی شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور کروشیا کے درمیان سفارتی تعلقات طویل عرصے سے خوشگوار رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
کروشیا، جو کہ یورپی یونین اور شینگن زون کا حصہ ہے، حالیہ برسوں میں مختلف صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستان یورپی ممالک کو اپنی آئی ٹی سروسز اور ہنرمند لیبر برآمد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس تناظر میں کروشین وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان، دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعاون، یورپی یونین کے بازاروں تک پاکستان کی رسائی اور افرادی قوت کی قانونی منتقلی کے حوالے سے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔