فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) نے پروٹیکٹڈ صارفین کی بلنگ سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے بجلی کے بلوں میں کریکشن کے حوالے سے نئی اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
فیسکو کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق اگر کسی پروٹیکٹڈ صارف کے بجلی کے استعمال میں مقررہ 200 یونٹس سے ایک یونٹ بھی زیادہ ریکارڈ ہو جاتا ہے تو اس کے بجلی کے بل میں کسی قسم کی کریکشن نہیں کی جائے گی۔
کمپنی نے متعلقہ افسران اور عملے کو نئی بلنگ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلنگ میں غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکام کے مطابق بلنگ کے عمل میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی ثابت ہونے پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فیسکو حکام نے مزید بتایا کہ اگر کوئی صارف چھ ماہ کے دوران ایک مرتبہ بھی مقررہ 200 یونٹس کی حد سے تجاوز کرتا ہے تو اس کی پروٹیکٹڈ کیٹیگری ختم ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں صارف کو رعایتی نرخوں کے بجائے متعلقہ ریگولر ٹیرف کے تحت بجلی کے بل ادا کرنا ہوں گے۔
کمپنی نے تمام متعلقہ دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے مقررہ 200 یونٹس کی حد پر کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہ برتی جائے اور نئی بلنگ پالیسی پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
فیسکو کے اس فیصلے کو پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 200 یونٹس کی مقررہ حد سے معمولی تجاوز بھی صارفین کے بجلی کے بل اور ٹیرف پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔