ٹرینیں بھی چلیں گی، بجلی بھی بنے گی، ریلوے ٹریکس پر سولر پینلز کا کامیاب تجربہ

ٹرینیں بھی چلیں گی، بجلی بھی بنے گی، ریلوے ٹریکس پر سولر پینلز کا کامیاب تجربہ

سوئٹزرلینڈ میں فعال ریلوے ٹریکس کے درمیان نصب کیے گئے دنیا کے پہلے ہٹائے جا سکنے والے سولر پینلز کے کامیاب تجربے کے بعد اس ٹیکنالوجی کو یورپ کے دیگر ممالک تک توسیع دینے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

سوئس اسٹارٹ اپ سن ویز  نے اپریل 2025 میں ویل ڈی تراورس کے گاؤں بوٹس  میں 100 میٹر طویل ریلوے ٹریک پر 48 خصوصی فوٹو وولٹائیک سولر پینلز نصب کیے تھے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 18 کلو واٹ پیک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل پیکچز کی قیمتوں سے متعلق اہم خبر

ابتدا میں اس منصوبے کو تین سالہ آزمائشی پروگرام کے طور پر منظور کیا گیا تھا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے سال کے حوصلہ افزا نتائج کے بعد مستقبل میں ریلوے لائنوں پر مستقل بنیادوں پر یہ نظام نصب کیا جا سکتا ہے۔

فی الحال اس منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی مقامی پاور گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے، جبکہ کمپنی ایسے نظام پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں بجلی براہِ راست ریلوے سب اسٹیشنز یا ٹرینوں کی بجلی فراہم کرنے والی لائنوں تک پہنچائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :پلاسٹک کو قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کرنے والی مشین تیار

اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ سولر پینلز کو ضرورت پڑنے پر آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے، تاکہ ریلوے ٹریکس کی مرمت، معائنہ یا دیکھ بھال میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ابتدائی طور پر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹرینوں کی آمدورفت سے سولر پینلز میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں یا سورج کی روشنی کا انعکاس ٹرین ڈرائیورز کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔

تاہم سن ویز نے زیادہ مضبوط سولر پینلز، اینٹی ریفلیکشن فلٹرز اور نگرانی کے لیے جدید سینسرز استعمال کیے، جبکہ ٹرینوں کے ساتھ خصوصی برش بھی نصب کیے گئے جو پینلز کی صفائی کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایبٹ آباد کے نوجوان کا منفرد تصور، کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی تیار کر لی

کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے سال کے دوران 11 ہزار سے زائد ٹرینیں ان پینلز کے اوپر سے گزریں، مگر نظام کی کارکردگی یا حفاظت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

سوئٹزرلینڈ میں کامیاب تجربے کے بعد اٹلی میں بھی اس ٹیکنالوجی کے آزمائشی منصوبے کی تیاری جاری ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں بھی حکومتی منظوری مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ نیدرلینڈز، چین، بھارت اور سنگاپور سمیت کئی ممالک میں بھی اس منفرد ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات چیت جاری ہے۔

editor

Related Articles