روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے منصفانہ حل پر زور دیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاہدے میں صرف امریکا اور ایران ہی نہیں بلکہ پڑوسی اور دیگر متعلقہ فریقین کے مفادات کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے، کیونکہ کشیدگی سے کئی ممالک اور عالمی معیشت متاثر ہورہی ہے۔
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے ایران اور روس کا مؤقف مشترک ہے، مسئلے کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس کی صورتحال کے حوالے سے روس اور ایران کا مؤقف یکساں ہے، اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ادھر امریکا کے ایران پر اور ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کےساتھ مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے اس کی پروا نہیں، وہ بات کرنا چاہیں تو کریں، لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے بہترین مذاکرات کار بات چیت جاری رکھنا چاہیں تو ضرور کریں، لیکن مجھے اس سے کوئی امید نہیں۔