سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے تتلی کے پروں کی ساخت سے متاثر ہو کر ایسی نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو سولر پینلز کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، بعض تتلیوں کے پروں پر موجود نہایت باریک قدرتی ساخت سورج کی روشنی کو زیادہ مؤثر انداز میں جذب اور منعکس ہونے سے روکتی ہے۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے محققین نے سولر پینلز کی سطح پر انتہائی باریک مائیکرو ٹیکسچر تیار کیے ہیں، جو زیادہ روشنی کو جذب کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت سولر پینلز کا سائز بڑھائے بغیر ان کی کارکردگی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سے ایک ہی چھت یا محدود جگہ پر نصب پینلز سے زیادہ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ ظاہری طور پر یہ سولر پینلز عام پینلز جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی سطح پر موجود باریک ساخت انہیں زیادہ مؤثر انداز میں سورج کی روشنی جذب کرنے کے قابل بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ تحقیق اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ قدرت میں موجود ڈیزائن اور نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مستقبل کی بہترین ایجادات کا راز فطرت میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔