چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا تیزی سے دوبارہ ’جنگل کے قانون‘ کی طرف جا رہی ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر شی نے یہ ریمارکس بیجنگ میں ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز سے ملاقات کے دوران دیے، جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔
ملاقات کے دوران چینی صدر نے عالمی سیاست کے موجودہ رخ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک انتہائی ہنگامہ خیز صورتحال کا شکار ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج دنیا کو ’قانون کی حکمرانی‘ اور ’طاقت کی حکمرانی‘ کے درمیان ایک بڑے مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کو تحفظ نہ دیا گیا تو انسانیت دوبارہ اسی دور میں پہنچ جائے گی جہاں صرف طاقتور کا سکہ چلتا تھا۔
شی جن پنگ نے اس موقع پر اسپین کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مل کر دنیا کو لاقانونیت کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور اسپین جیسے ممالک کو عالمی امن اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کے دفاع کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بھی چینی صدر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کثیر الجہتی عالمی نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ ملاقات کو عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔
چینی صدر کا ’جنگل کے قانون‘ کا تذکرہ دراصل حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین جیسے محاذوں پر بین الاقوامی اداروں کی ناکامی کی طرف ایک اشارہ ہے۔
چین مسلسل یہ موقف اپنا رہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی عالمی قوانین کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہے ہیں، جس سے ’قانون کی حکمرانی‘ کمزور ہو رہی ہے۔ اسپین، جو کہ یورپی یونین کا ایک اہم رکن ہے، کے ساتھ چین کی یہ قربت ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ اب یورپ کے اندر ایسے شراکت دار تلاش کر رہا ہے جو یکطرفہ طاقت کے استعمال کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔