عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں، کتنا اضافہ ہوا؟

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ گئیں، کتنا اضافہ ہوا؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں اور خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں سست روی اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات نے توانائی کی عالمی منڈی کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 58 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے بعد 72.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 88 سینٹ یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

مالیاتی ادارے آئی این جی (ING) کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سرمایہ کار اس امید پر ہیں کہ تیل کی ترسیل بتدریج معمول پر آ جائے گی تاہم موجودہ حالات میں مکمل اطمینان کا اظہار قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق اگر سپلائی کی بحالی میں مزید تاخیر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ، سونا مزید سستا

 گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی کیونکہ اس وقت آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل کشیدگی کے باوجود بہتر سطح پر پہنچ گئی تھی۔ تاہم جمعرات کے بعد بحری جہازوں پر نئے حملوں جن میں قطر سے منسلک ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا نے ایک بار پھر بحری ٹریفک کو متاثر کیا اور سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا۔

ادھر سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ بعد رأس تنورہ ٹرمینل سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے جسے عالمی سپلائی کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اتوار کو آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں 14 افراد جان کی بازی ہار گئے، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ تیل کی لوڈنگ اور برآمدات کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔

editor

Related Articles