کراچی بندرگاہ پر پیٹرولیم مصنوعات سے بھرے مزید بحری جہازوں کی آمد نے توانائی بحران کے تناظر میں اہم پیش رفت پیدا کر دی ہے
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سپلائی چین میں بہتری کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں ملک میں ایندھن کی دستیابی مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
کراچی پورٹ پر آئل ٹینکرز کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت دو بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہو چکے ہیں۔
ان میں ایم ٹی لیڈی آف ڈوریا تقریباً 15 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر پہنچی ہے جبکہ ایم ٹی پی الیکی 73 ہزار ٹن کروڈ آئل کے ساتھ بندرگاہ پر داخل ہوئی جس سے ملکی ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بحری جہازوں کی آمد بھی متوقع ہے جن میں ایم ٹی کلیئر اوشین اپولن اور ایم ٹی شالیمار داس آئی لینڈ شامل ہیں یہ دونوں جہاز بھی خام تیل لے کر کراچی پہنچیں گے۔
دوسری جانب ایم ٹی لاہور فجیرہ سے خام تیل لے کر کراچی کی جانب روانہ ہو چکا ہے جو سپلائی میں مزید استحکام کا باعث بنے گا۔
کے پی ٹی کے آئل ٹرمینلز پر سپلائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ ایم ٹی ایوا گولڈ پیٹرولیم مصنوعات اور ایتھانول لے کر ٹوٹیکورن روانہ ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق بحری جہازوں کی مسلسل آمد سے نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔