یورپی کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بچوں پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے میٹا کے خلاف جاری تحقیقات کو مزید سخت کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا مرکزی نکتہ یہ جانچنا ہے کہ آیا فیس بک اور انسٹاگرام میں استعمال ہونے والے ایسے فیچرز اور ڈیزائن، جو صارفین کو زیادہ دیر تک اسکرین سے جوڑے رکھتے ہیں، جان بوجھ کر کم عمر صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین جلد ہی ان ڈیزائننگ پریکٹسز سے متعلق اپنے ابتدائی نتائج جاری کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یورپی کمیشن اگلے ماہ ماہرین کے ایک پینل کی سفارشات موصول ہونے کے بعد برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرز پر مزید سخت قواعد و ضوابط نافذ کرنے پر غور کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نابالغ بچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عالمی سطح پر سخت ترین ضوابط نافذ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو نوجوانوں کی آن لائن حفاظت اور ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کے باعث طویل عرصے سے تنقید کا سامنا ہے۔ تاہم اس معاملے پر نہ تو یورپی یونین اور نہ ہی میٹا نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ میٹا 2024 سے یورپی کمیشن کی جانب سے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت بچوں کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے قانونی اور ریگولیٹری تحقیقات کا سامنا کر رہی ہے۔
رواں سال مارچ میں لاس اینجلس کی ایک عدالت نے بھی ایک اہم فیصلے میں میٹا اور گوگل کے خلاف دائر مقدمے کو آگے بڑھانے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ دونوں کمپنیوں کو نوجوانوں کے لیے مبینہ طور پر نقصان دہ اور نشہ آور نوعیت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ڈیزائننگ سے متعلق قانونی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔