انسانیت سوز ظلم، جبری مشقت سے انکار پر بااثر ملزمان نے 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل ڈالا

انسانیت سوز ظلم، جبری مشقت سے انکار پر بااثر ملزمان نے 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل ڈالا

ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکا گاڑی تلے کچل کر  جاں بحق  ہوگیا۔واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکا ایک یتیم خانے میں رہتا تھا۔ اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک شخص کے پاس بھیجا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق لڑکے کے کام چھوڑ کر جانے کے بعد اس کا تعاقب کیا گیا۔ الزام ہے کہ بعدازاں اس پر گاڑی چڑھا دی گئی  جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

سی سی ٹی وی ویڈیوز سامنے آگئیں

واقعے کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میں لڑکے کو بھاگتے اور گاڑی کے ذریعے اس کا تعاقب کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک دوسری ویڈیو میں گاڑی کو لڑکے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :یکم نومبر 1984: بھارت کی سیاہ تاریخ میں ظلم و بربریت کی انتہا ، سکھوں کا قتلِ عام

متعدد کیمروں سے سامنے آنے والے مناظر نے واقعے کے حالات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ویڈیوز کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے واقعے کو حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ویڈیوز میں دکھائی دینے والے مناظر کی قانونی حیثیت اور واقعے کے مکمل حالات کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا۔

ایک ملزم گرفتار

پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے توقیر نذیر نامی شخص کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حالات اور ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے۔

پولیس نے ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مقتول پر چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ واقعے سے پہلے لڑکے کے کام چھوڑنے کے معاملے کا ذکر سامنے آیا ہے۔

الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا

سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق مقتول ایک این جی او کے زیر انتظام یتیم خانے میں مقیم تھا۔ اسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا۔ ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی کا کھیل ختم ، کے پی کی عوام کو پی ٹی آئی کے عذاب سے نجات مبارک! ڈاکٹر فرحان ورک بے لاگ تبصرہ

ابتدائی معلومات کے مطابق لڑکے کے کام چھوڑ کر چلے جانے کے بعد اس کا تعاقب کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران گاڑی چڑھانے کا واقعہ پیش آیا۔

لاش آبائی علاقے منتقل
واقعے میں ہلاک ہونے والے لڑکے کی لاش اس کے چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے۔ واقعے نے کم عمر بچوں کی حفاظت اور انہیں کام کی تربیت دینے کے انتظامات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

editor

Related Articles