2026 میں دنیا کے خاتمے کی پیشگوئی: وائرل دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی

2026 میں دنیا کے خاتمے کی پیشگوئی:  وائرل دعوؤں کی حقیقت  سامنے آگئی

سائنسدانوں نے سال 2026 میں دنیا کے خاتمے سے متعلق وائرل ہونے والی پیشگوئیوں کی اصل حقیقت بتا دی ہے۔ جیسے ہی 2025 کا اختتام ہوا، سوشل میڈیا پر ایک بار پھر یہ دعوے گردش کرنے لگے کہ دنیا کا خاتمہ 2026 میں ہو جائے گا۔

ٹک ٹاک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر سنسنی خیز پوسٹس اور ویڈیوز نے لاکھوں صارفین کی توجہ حاصل کی، جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جرمن سائنسدان نے 1960 میں پیشگوئی کی تھی کہ دنیا جمعہ 13 نومبر 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام دعوے مکمل طور پر غلط اور غیر سائنسی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افواہوں کی بنیاد پرانے نظریات، ماحولیاتی خدشات اور بعض متنازعہ پیشگوئیوں پر رکھی گئی ہے، جنہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان دعوؤں کی ابتدا جرمن سائنسدان ہائنز وان فورسٹر کے 1960 کی دہائی میں پیش کیے گئے ایک ماڈل سے جوڑی جاتی ہے، جس میں انسانی آبادی کے غیر مستحکم بڑھاؤ کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس ماڈل کے مطابق 2026 میں آبادی کے دباؤ کا ایک نازک مرحلہ سامنے آ سکتا تھا، تاہم اس کا دنیا کے خاتمے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سال2026 پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟اہم پیشگوئیاں

اسی طرح امریکی ماہر ماحولیات گائی میکفرسن نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث زمین کے مستقبل کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد بعض افراد نے 2026 کو ایک “علامتی اختتام” کا سال قرار دینا شروع کر دیا۔

سائنسدان واضح طور پر کہتے ہیں کہ 2026 میں دنیا کے خاتمے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ تاہم، ماحولیاتی بحران، آبادی کا دباؤ، وسائل کی کمی، ٹیکنالوجی سے وابستہ خطرات اور عالمی کشیدگی کو انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات کے طور پر ضرور دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرینِ نفسیات اور سماجی سائنسدانوں کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل مواد کی شدت اور مسلسل شیئرنگ نے ان افواہوں کو مزید ہوا دی ہے، جس کے باعث صارفین میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026، آسٹریلین اسکواڈ اعلان، اہم کھلاڑیوں کی ٹیم میں واپسی

ماہرین کی رائے ہے کہ انسانوں کو افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے حقیقی مسائل، مستند سائنسی معلومات اور ماحولیاتی شعور کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

Related Articles