ملتان میں ایک بچے کی حفاظت اور مناسب نگرانی میں ناکامی پر یتیم خانے کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب سارہ احمد نے واقعے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
سارہ احمد نے پنجاب پولیس سے یتیم خانے کے مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی موت کے ذمہ دار تمام افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔ حفاظت میں غفلت
سارہ احمد کے مطابق بچے کو کام کے لیے ایک ٹھیکیدار کے حوالے کیا گیا تھا۔ تاہم اس کی حفاظت اور مناسب نگرانی یقینی نہیں بنائی گئی جس کے نتیجے میں بچے کی جان چلی گئی۔
چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے اس واقعے کو بچوں کی نگہداشت میں سنگین غفلت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی ذمہ داری سنبھالنے والے اداروں کو ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنا چاہییں۔ لائسنس کا جائزہ لینے کا مطالبہ
سارہ احمد نے پنجاب چیریٹیز کمیشن سے بھی یتیم خانے کی رجسٹریشن اور لائسنس کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق رجسٹریشن منسوخ کرنے سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی ادارے کی غفلت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ ایسے معاملات میں متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
یتیم خانوں کے لیے معیار
سارہ احمد نے بتایا کہ پنجاب کے تمام یتیم خانوں میں رہائش پذیر بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کم از کم معیارات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے کو بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کی ذمہ داری میں غفلت برتنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق بچوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہر بچے کا تحفظ ضروری
چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کہا کہ ہر بچے کو تحفظ، عزت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یتیم بچوں کو ان افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جنہیں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔
سارہ احمد نے پولیس سے بچے کی موت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ چوں کی حفاظت میں ناکامی پر اداروں کی جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے۔