سوشل میڈیا پر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی مراد سعید اور ان کے خاندان سے متعلق ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ۔
آزاد فیکٹ چیک کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے یہ من گھڑت اور مظلومیت کا ڈرامہ رچایا گیا کہ “سیاسی انتقام کے تحت مفرور مراد سعید کی معذور اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کر دیا گیا ہے” جو کہ مکمل طور پر جھوٹ، بدمعاشی اور سرکاری املاک پر قبضے کو چھپانے کا زہریلا پروپیگنڈا ثابت ہوا ہے۔
اصل حقیقت کیا ہے ؟
20 اکتوبر 2026ء کو متعلقہ حکام کی ہدایات پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی انتظامیہ نے سوات میں واقع ایک سرکاری رہائشی مکان خالی کرایا، اس مکان پر مراد سعید کے بھائی کلیم سعید کا طویل عرصے سے غیر قانونی قبضہ تھا، جو خیبر پختونخوا حکومت میں ٹیکس اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مراد سعید کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد سوات کے علاقے کبل میں واقع اپنے آبائی گھر میں رہائش پذیر ہیں اور ان کی والدہ یا والد کو گھر سے بے دخل کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات سراسر جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔
انتظامیہ کی یہ کارروائی صرف اس سرکاری رہائش گاہ کو خالی کروانے تک محدود تھی جس پر مفرور مراد سعید کے بھائی کا غیر قانونی قبضہ تھا، اور اس کارروائی کے دوران خاندان کے کسی بھی فرد سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، جبکہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں غیر قانونی قبضے میں موجود دیگر سرکاری املاک کی نشاندہی اور واگزاری کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
پختون روایات کا سہارا اور جھوٹی مظلومیت کارڈ کی ناکام کوشش
پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر سرکاری املاک کی لوٹ مار اور اپنے غیر قانونی کاموں پر پردہ ڈالنے کے لیے “بیمار والدہ” اور “پختون روایات کی پامالی” کا ڈھونگ رچا کر سستی عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :منافقت کے نقاب الٹ چکے، ملک دشمن بیانات سے سیاہ کارنامے نہیں چھپ سکتے ، فرح عظیم نے فضل الرحمن کو آئینہ دکھا دیا
ایک سرکاری ملازم کے ذریعے ڈکیتی اور غصب کی گئی سرکاری پراپرٹی کو واگزار کروانا قانون کی بالا دستی ہے، لیکن پی ٹی آئی رہنما قانون کی اس سیدھی سادھی کارروائی کو سیاسی رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
فیک نیوز الرٹ 🚨 🚨
پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس اور رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی (@IqbalAfridiPTI) کی جانب سے ایک زیرِ گردش ٹویٹ کے ذریعے جھوٹی خبر پھیلائی جا رہی ہے، جس میں یہ من گھڑت دعویٰ کیا گیا ہے کہ مفرور مراد سعید کی معذور اور بیمار والدہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے گھر سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹ اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر مبنی ہے:
20 اکتوبر 2026ء کو متعلقہ حکام کی ہدایات پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے سوات میں واقع صرف ایک سرکاری رہائشی مکان خالی کروایا ہے، جس پر مفرور مراد سعید کے بھائی کلیم سعید نے، جو خیبر پختونخوا حکومت میں ٹیکس اسسٹنٹ بھی ہے، کافی عرصے سے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا تھا۔
مفرور مراد سعید کے والد، والدہ اور خاندان کے دیگر افراد ضلع سوات کے علاقے کبل میں واقع اپنے آبائی گھر میں رہائش پذیر ہیں، اور ان کی والدہ یا والد کو گھر سے بے دخل کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات سراسر جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔
انتظامیہ کی یہ کارروائی صرف اس سرکاری رہائش گاہ کو خالی کروانے تک محدود تھی جس پر مفرور مراد سعید کے بھائی کا غیر قانونی قبضہ تھا، اور اس کارروائی کے دوران خاندان کے کسی بھی فرد سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، جبکہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں غیر قانونی قبضے میں موجود دیگر سرکاری املاک کی نشاندہی اور واگزاری کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
سرکاری مکان سے غیر قانونی قبضہ ختم کروانے کے قانونی اقدام کو بیمار والدہ کی بے دخلی اور پختون روایات کی پامالی بنا کر پیش کرنا پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے جھوٹی عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور سرکاری املاک پر قبضے کو تحفظ دینے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔
— Azaad Fact Check (@azaadfactcheck) October 21, 2026


