اے آئی کمپنی اینتھروپک کو 2026 کی پہلی ششماہی میں 80.7 ارب ڈالر کے خالص خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم، اس بھاری خسارے کی بڑی وجہ روزمرہ کاروباری اخراجات نہیں بلکہ ایسے بانڈز کی تخمینی مالیت میں اضافہ ہے جنہیں مستقبل میں کمپنی کے حصص میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، گزشتہ سال کی اسی مدت میں کمپنی کا خالص خسارہ 13 ارب ڈالر تھا۔ تازہ اعداد و شمار میں 72 ارب ڈالر کا حسابی خرچ بھی شامل ہے، جو نقد رقم کی صورت میں ادا نہیں کیا گیا بلکہ بانڈز کی تخمینی قدر میں اضافے سے پیدا ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اینتھروپک نومبر میں اسٹاک مارکیٹ میں فہرست ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم، تازہ مالی انکشافات کے بعد بعض سرمایہ کار کمپنی کی ممکنہ مالیت کا تخمینہ کم کرکے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
کمپنی کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں اینتھروپک نے کمپیوٹنگ اور بنیادی ڈھانچے پر تقریباً 9 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اخراجات 2.3 ارب ڈالر تھے۔ کمپنی نے اگلی دہائی کے دوران کلاؤڈ سروسز، کمپیوٹنگ اور بنیادی ڈھانچے پر کم از کم 518 ارب ڈالر خرچ کرنے کا عہد بھی کر رکھا ہے۔
دوسری جانب، بھاری اخراجات اور خسارے کے باوجود کمپنی کی آمدنی میں اضافہ جاری ہے۔ روئٹرز کے مطابق، تیسری سہ ماہی میں اینتھروپک کی آمدنی گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ کر 16.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم، آمدنی میں اضافے کی رفتار سست ہونے پر بعض سرمایہ کاروں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
اینتھروپک کو اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ معاون ’کلاڈ کوڈ‘ کی مقبولیت سے بھی فائدہ پہنچا ہے۔ کمپنی کے مجوزہ ابتدائی عوامی حصص اجرا (آئی پی او) کو مصنوعی ذہانت کی عالمی مارکیٹ کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی کے بھی اگلے سال اسٹاک مارکیٹ میں آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔