اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ سال 2026 سے 2030 کے دوران دنیا کا اوسط درجہ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب برقرار رہنے یا اس میں مزید اضافے کا قوی امکان موجود ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ایک نیا تاریخی طور پر گرم ترین سال سامنے آ سکتا ہے جس سے عالمی موسمی نظام پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 کے بعد سے اب تک گیارہ سب سے زیادہ گرم سال ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ برسوں میں بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ایک مستقل رجحان بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھتر فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان پانچ سالہ اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں ایک اعشاریہ پانچ درجے سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ حد پیرس موسمیاتی معاہدے میں اس لیے مقرر کی گئی تھی تاکہ خطرناک موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھیاسی فیصد امکان موجود ہے کہ ان برسوں میں سے کوئی ایک سال 2024 کے درجہ حرارت کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے اب تک کا سب سے گرم سال بن جائے گا۔
اس کے علاوہ 2026 کے آخر میں موسمیاتی نظام ال نینو کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 2027 میں عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے اثرات دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، طوفانی بارشوں اور موسم کے غیر معمولی تغیرات کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپ کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں اور برطانیہ اور فرانس میں مئی کے درجہ حرارت کے کئی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔
آرکٹک خطے میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران عالمی اوسط کے مقابلے میں تین گنا زیادہ درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس سے برف کے تیزی سے پگھلنے اور سمندر کی سطح بلند ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو دنیا کو شدید موسمی بحران، خوراک کی قلت، پانی کی کمی اور قدرتی آفات میں اضافے جیسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔