لکی مروت، پولیس امن کمیٹی کے رکن انسپکٹر صبور علی کا بھتیجا خوارجی نکل آیا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ملزم گرفتار

لکی مروت، پولیس امن کمیٹی کے رکن انسپکٹر صبور علی کا بھتیجا خوارجی نکل آیا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ملزم گرفتار

 ضلع لکی مروت میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اور مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک خودکش بمبار کی گرفتاری کے لیے پولیس امن کمیٹی کے رکن انسپکٹر صبور علی  کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں مطلوب دہشتگرد گھر میں موجود تھا جبکہ کارروائی کے دوران ملزم کو فرار کرانے کی کوشش میں گھر کے اندر سے سیکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ بھی کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انسپکٹر صبور علی کے بھتیجے کو گرفتار کر لیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صبور علی کا بیٹا بھی دہشتگرد عناصر کی سہولت کاری میں ملوث ہے۔ معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر پولیس امن کمیٹی کے دیگر اراکین کو ویلیج ڈیفنس کمیٹی لنڈی وا اور کرم پار کے چیئرمین نجیب اللہ نے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کے خوارجی نیٹ ورک سے تعلق کے انکشاف کے بعد پولیس امن کمیٹی کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور کئی اراکین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک مطلوب دہشتگرد کو پولیس امن کمیٹی کے پلیٹ فارم اور بااثر شخصیات کی سرپرستی میں پناہ کیوں دی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کا ایک مبینہ وائس نوٹ بھی سامنے آیا ہے جس میں ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز زبان، تصادم کی دھمکیاں اور اسلحہ واپس لینے جیسے بیانات دیے گئے۔ ایسے بیانات امن کمیٹیوں کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دفاعی و اسٹریٹجک صلاحیت پاکستان کی مقدس قومی امانت ہے، آئی ایس پی آر

ادھر کارروائی کے بعد صبور علی کی بعض ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جن میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے ان کے گھر میں داخل ہو کر سامان لوٹا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ کارروائی مکمل طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی اور مقصد مطلوب دہشتگرد کو گرفتار کرنا تھا۔

سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی زبان، طرزِ عمل اور ریاستی اداروں کے خلاف رویہ فتنہ الخوارج سے مماثلت اختیار کر لے تو اس کے کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست کسی صورت یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ پولیس امن کمیٹی کے نام پر نجی مسلح گروہ وجود میں آئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالیں یا دہشتگرد سہولت کاروں کے دفاع میں کھڑے ہوں۔

سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ دہشتگردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور کسی بھی فرد یا گروہ کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا، اشتعال انگیزی یا دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

editor

Related Articles