عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 1 ڈالر 32 سینٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 72 ڈالر 54 سینٹ فی بیرل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب برطانوی خام تیل بھی سستا ہو گیا ہے،برطانوی خام تیل کی قیمت میں 1 ڈالر 40 سینٹ کی کمی کے بعد فی بیرل نرخ 76 ڈالر 50 سینٹ تک آ گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور بحری راستوں کے معمول پر آنے سے عالمی منڈی کو مثبت اشارہ ملا ہے، جس کے باعث تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کم ہوئے اور قیمتوں پر دباؤ میں کمی آئی۔
اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے اور سپلائی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس راستے کی صورتحال عالمی توانائی منڈی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔