پاکستان اور چین نے علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک فریقین کے درمیان بات چیت کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 105ویں یومِ تاسیس پر مبارک باد پیش کی۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن عمل اور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ مذاکرات کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ثالثی عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوہری معاملات، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق تین الگ الگ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں، جن کا مقصد ساٹھ روز کے اندر فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
نائب وزیراعظم نے امن عمل کے لیے چین کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے صدر شی جن پنگ کے چار نکاتی امن منصوبے اور پاک چین پانچ نکاتی امن اقدام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مذاکرات کے کامیاب انعقاد اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے حوالے سے پاکستانی قیادت کو مبارک باد دی۔
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں، فعال ثالثی اور مسلسل رابطوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اس عمل کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تنازعات کا پرامن حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کشیدگی کے مستقل خاتمے، پائیدار امن، مشترکہ ترقی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل میں تعاون جاری رکھیں گے۔