انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے سولاویسی میں صبح کے وقت شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس سے شہریوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔
انڈونیشین ایجنسی برائے موسمیات، موسمیاتی تبدیلی اور جیو فزکس (ارضیات) کے مطابق، زلزلہ صبح کے وقت تقریباً 11:27 منٹ پر آیا، جس کی شدت زلزلہ پیما اسکیل پر 6.7 ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ایک انتہائی طاقتور اور خطرناک زلزلہ سمجھا جاتا ہے۔
ارضیاتی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس شدید زلزلے کا مرکز سولاویسی کے معروف شہر ’پالو‘ سے تقریباً 42 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا، جبکہ زمین کے اندر اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلے کی گہرائی کم ہونے کے باعث زمین کی سطح پر اس کے جھٹکے انتہائی شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔
حکام نے زلزلے کے فوری بعد متاثرہ علاقوں میں مزید ممکنہ آفٹر شاکس (زلزلے کے بعد کے دھیمے جھٹکے) آنے کی باقاعدہ وارننگ جاری کر دی ہے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
تاہم ریلیف کی بات یہ ہے کہ سمندر کے اندر کوئی بڑی ہلچل نہ ہونے کے باعث سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک کسی بڑے جانی نقصان یا زخمیوں کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
انڈونیشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جو جغرافیائی طور پر بحر الکاہل (پیسفک اوشین) کے انتہائی حساس حصے پر واقع ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر ’رنگ آف فائر‘ (آتشیں دائرہ) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں زمین کی اندرونی پلیٹیں (ٹیکٹونک پلیٹس) مسلسل آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے یہاں زلزلے اور سونامی آنا ایک معمول کی بات ہے۔
سولاویسی اور بالخصوص اس کا شہر ‘پالو’ ماضی میں بھی بدترین ارضیاتی سانحات کا سامنا کر چکا ہے۔ اس جزیرے کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں آنے والے زلزلوں نے ماضی میں شدید تباہی مچائی۔ انڈونیشیا کی ایک اور منفرد اور خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ملک 120 سے زیادہ فعال (زندہ) آتش فشاں پہاڑوں کی آماجگاہ ہے۔
جو اسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ آتش فشانی سرگرمیوں والے فعال ممالک کی فہرست میں صفِ اول میں کھڑا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ (آفات سے نمٹنے والی) ایجنسیاں چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہتی ہیں۔