جنوب مشرقی سولاویسی، انڈونیشیا کے بٹون قبیلے میں ایک ایسا حیرت انگیز جینیاتی رجحان پایا جاتا ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
اس قبیلے کے کچھ افراد کی آنکھوں کا رنگ گہرا بھورا ہونے کے بجائے شوخ نیلا ہوتا ہے، جو اس خطے میں ایک انتہائی غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کسی بیرونی نسل کے اثرات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک نایاب جینیاتی حالت کی وجہ سے ہوتا ہے جسے’وارڈنبرگ سنڈروم‘ کہا جاتا ہے۔
یہ جینیاتی تبدیلی جسم میں رنگ بنانے والے خلیات کی نشوونما پر اثر ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھوں کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے۔ بعض افراد میں یہ کیفیت ایک آنکھ میں مختلف رنگ کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتی ہے، جسے ہائٹروکرومیا کہا جاتا ہے۔
حالت کے ساتھ بعض اوقات بالوں کے سفید دھبے یا سننے کی صلاحیت میں کمی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔دنیا بھر میں یہ جینیاتی سنڈروم بہت کم پایا جاتا ہے، لیکن اس مخصوص قبیلے میں اس کی موجودگی نے سائنسدانوں کے لیے ایک منفرد تحقیق کا موقع فراہم کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مثال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح الگ تھلگ جینیاتی تبدیلیاں انسانی جسم میں حیران کن اور منفرد خصوصیات پیدا کر سکتی ہیں۔