عید کے تیسرے دن عوام کو بڑا تحفہ مل گیا ، وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لٹر 22 ، 22 روپے کمی کا اعلان کر دیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہو گی، عوام کو ریلیف دیا جائے گا، اس وعدے پر ہو بہو عمل کیا گیا ہے ۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے کمی اور ڈیزل کی قیمت میں بھی 22 روپے کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
پٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 22 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے اور نئی قیمت 380 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑی کمی کرتے ہوئے اسے 41 روپے 44 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ 313 روپے 44 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
قیمتوں میں ردوبدل کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کی شرح میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پیٹرول پر لیوی میں 10 روپے 83 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد یہ 102 روپے 17 پیسے سے کم ہو کر 91 روپے 34 پیسے فی لیٹر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب ڈیزل پر لیوی کی شرح میں 10 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 58 روپے سے بڑھ کر 68 روپے 93 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ تاہم مٹی کے تیل پر عائد لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد ہوگا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا میری اولین ترجیحات میں شامل ہے، پچھلے ہفتے بھی عوام کو ریلیف دیا گیا اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔
وفاقی حکومت نے سخت ترین حالات میں بھی عوام کے لئے ریلیف کا سلسلہ جاری رکھا اور پبلک، گڈز ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لئے فیول پر سبسڈی دی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق جب خطے کے دوسرے ممالک میں پٹرول حاصل کرنے کے لئے قطاریں لگی ہوئی تھیں، پاکستان میں وزیراعظم کے بر وقت اقدامات کی بدولت عوام کو پٹرول اور ڈیزل دستیاب تھا۔
جب دنیا میں تیل کا بد ترین بحران تھا، اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود وزیراعظم کی جانب سے 130 روپے سے زائد کی سبسڈی دے کر تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکا گیا اور سبسڈی کی مد میں بھی عوام کو ریلیف مہیا کیا گیا۔