فراڈ کا دور ختم، نادرا کا شہریوں کے لیے شانداراقدام

فراڈ کا دور ختم، نادرا کا شہریوں کے لیے شانداراقدام

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو فراڈ سے بچانے اور ان کے شناختی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک انقلابی مانیٹرنگ سروس متعارف کروا دی ہے۔

اب شہری ’پاک آئی ڈی‘ (پاک آئیڈنٹیٹی) موبائل ایپ یا نادرا کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے بالکل مفت اور آسانی سے یہ چیک کر سکتے ہیں کہ ان کا شناختی کارڈ پچھلے 10 سالوں میں کہاں کہاں اور کب استعمال ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہری جب موبائل ایپ یا دفتر کے ذریعے شناختی کارڈ کی درخواست دیتے ہیں تو دستخط دینا لازمی شرط نہیں،نادرا

اس جدید ڈیجیٹل سروس کے ذریعے شہریوں کو یہ جاننے کا پورا حق مل گیا ہے کہ ان کے ڈیٹا تک کس ادارے نے کب رسائی حاصل کی، جس سے شناختی کارڈ کے غیر قانونی استعمال اور جعل سازی کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

ریکارڈ چیک کرنے کا طریقہ کار

نادرا کے مطابق شہری اپنے شناختی کارڈ کے استعمال کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے حاصل کر سکتے ہیں

موبائل ایپ کا استعمال

اپنے اسمارٹ فون میں ’پاک آئی ڈی‘ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور لاگ ان کی تفصیلات درج کر کے اپنا اکاؤنٹ کھولیں۔

آپشن کا انتخاب

ایپ کے مین مینو میں موجود ’یوسیج ہسٹری‘ یا ’ویریفیکیشن ہسٹری‘ کے آپشن پر کلک کریں۔

تلاش کا دائرہ کار

کلک کرنے کے بعد ایک نیا پیج اوپن ہوگا جہاں ابتدائی طور پر ’لاسٹ 15 ڈیز‘(آخری 15 دن) کا آپشن نظر آئے گا۔

10 سالہ ریکارڈ تک رسائی

اسی سیکشن میں شہری پچھلے 10 سالوں کا مکمل ریکارڈ دیکھ سکیں گے، جس میں بینک اکاؤنٹ کھولنے، سم کارڈ کے اجرا یا دیگر سرکاری و نجی تصدیقی مراحل کی مکمل تفصیلات (تاریخ اور وقت کے ساتھ) موجود ہوں گی۔

ویب پورٹل کی سہولت

شہری موبائل ایپ کے علاوہ نادرا کے آفیشل ’پاک آئی ڈی ویب پورٹل‘ پر بھی اپنے اکاؤنٹ سے لاگ ان کر کے یہ تمام تصدیقی ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔

سم کارڈز کی فوری تصدیق

اگر آپ صرف یہ چیک کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کے شناختی کارڈ پر اس وقت کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں، تو اپنا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش کے) لکھ کر 668 پر ایس ایم ایس بھیجیں۔

اس سروس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ماضی میں پاکستان میں شناختی کارڈ کے ڈیٹا کے غلط استعمال، شہریوں کی مرضی کے بغیر ان کے نام پر موبائل سمز کے اجرا، اور جعلی دستاویزات پر بینک اکاؤنٹس کھلوانے جیسے سنگین جرائم رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

مالیاتی فراڈ اور ’سائبر کرائمز‘ میں ملوث عناصر اکثر معصوم شہریوں کے شناختی کارڈز کی کاپیاں یا ڈیٹا چوری کر کے غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔

شہریوں کو اس بات کا علم تب ہوتا تھا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے یا بینک انہیں کسی فراڈ کے کیس میں طلب کرتے تھے۔ نادرا کی اس نئی مانیٹرنگ ایپ کا مقصد شہریوں کو اپنے ڈیٹا کا خود محافظ بنانا ہے تاکہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو بروقت پکڑ سکیں۔

نادرا کے اقدام کے دور رس اثرات

ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ماہرین نادرا کے اس اقدام کو ’ڈیٹا پروٹیکشن‘ اور ’سائبر سیکیورٹی‘ کی دنیا میں ایک بڑا سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ اس سروس کے 3 بڑے مثبت پہلو سامنے آئیں گے

فائدہ تفصیل اثرات

شفافیت شہریوں کو معلوم ہوگا کہ ان کا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے۔ اداروں پر عوامی اعتماد بڑھے گا۔

فراڈ کا خاتمہ، غیر قانونی سمز اور ’فیک اکاؤنٹس‘ کا فوری پتہ چل سکے گا۔ مالیاتی جرائم اور دہشت گردی کی فنڈنگ میں کمی آئے گی۔

ڈیجیٹل بااختیاری عام آدمی بغیر کسی فیس یا نادرا دفتر کے چکر لگائے گھر بیٹھے مانیٹرنگ کر سکے گا۔وقت اور پیسے کی بچت ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سروس نادرا کی طرف سے عوام کو اپنے ہی ڈیٹا پر کنٹرول دینے کی بہترین مثال ہے۔ اگر کوئی شہری دیکھتا ہے کہ اس کا کارڈ کسی ایسے بینک یا ادارے میں تصدیق کے لیے استعمال ہوا جہاں وہ خود کبھی گیا ہی نہیں، تو وہ فوری طور پر قانونی کارروائی یا نادرا سے رجوع کر کے بڑے نقصان سے بچ سکتا ہے۔

Related Articles