عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدستور اتار چڑھاؤ جاری ہے اور تاحال کسی واضح استحکام کے آثار نظر نہیں آ رہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی آئل مارکیٹ میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد یہ 104 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی ڈیڑھ فیصد کمی ہوئی اور یہ 113 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی طلب و رسد میں عدم توازن اور توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سامنے آ رہا ہے خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور سمندری راستوں سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی جہاں انڈیکس میں 5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جاپان کی مارکیٹ میں بھی معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 0.38 فیصد بڑھا۔
اس کے برعکس ایشیا کی کئی اہم مارکیٹس مندی کا شکار رہیں، جہاں بھارت، ہانگ کانگ، ملائیشیا اور نیوزی لینڈ کی اسٹاک مارکیٹس میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باعث مارکیٹس میں یہ ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
اگر تیل کی قیمتوں میں عدم استحکام برقرار رہا تو اس کے عالمی معیشت مہنگائی اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں جغرافیائی حالات اس سمت کا تعین کریں گے۔