گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ٹرانسشپمنٹ کارگو لے کر آنے والا پانچواں بڑا بحری جہاز کامیابی سے لنگر انداز ہو گیا ہے۔ پورٹ حکام کے مطابق یہ پیش رفت بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور اس کے اسٹریٹجک کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہانگ کانگ سے آنے والا 12.8 میٹر ڈرافٹ والا ایک بڑا بحری جہاز گوادر پورٹ پر پہنچا جسے جدید انتظامی اور تکنیکی سہولیات کے تحت ہینڈل کیا گیا۔ شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر آٹھ بڑے جہاز اس بندرگاہ پر لنگر انداز ہو چکے ہیں جو گوادر کی بڑھتی ہوئی تجارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور نے اس پیش رفت کو گوادر کی ترقی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بندرگاہ اب ایک علاقائی ٹرانسشپمنٹ حب کے طور پر تیزی سے ابھر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر اپنی قدرتی ڈیپ سی خصوصیات کے باعث دنیا کے بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل بڑے جہازوں کی آمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گوادر پورٹ کی ڈیپ ڈرافٹ صلاحیت عملی طور پر ثابت ہو چکی ہے اور یہ بندرگاہ عالمی تجارتی راستوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔پورٹ حکام کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو ہینڈل کیا گیا جس میں 53 ہزار 277 میٹرک ٹن اسٹیل بلٹس شامل ہیں جو کامیابی کے ساتھ گوادر پورٹ پر اتارے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی شپنگ سرگرمیاں نہ صرف بندرگاہ کی استعداد کار میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ گوادر خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔