پاکستان، عراق فضائی رابطہ 86 دن بعد بحال، بغداد سے پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی

پاکستان، عراق فضائی رابطہ 86 دن بعد بحال، بغداد سے پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے 86 دن بعد، مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ حالات کے باعث معطل ہونے والا پاک عراق فضائی آپریشن بالآخر بحال ہو گیا ہے۔

عراق سے پاکستان کے لیے براہِ راست پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے سفارتی اور عوامی حلقوں میں ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

فلائٹ شیڈول اور آپریشنز کی تفصیلات

میڈیا رپورٹ کے مطابق بغداد سے عراق ایئر کی پہلی پرواز ’آئی اے 409‘ مسافروں کو لے کر آج صبح 4:53 بجے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی۔ طویل عرصے بعد براہِ راست پرواز کی آمد پر مسافروں میں شدید خوشی اور اطمینان دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدے کی امید ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

واپسی کے سفر کے لیے، کراچی سے عراق ایئر کی پرواز ’آئی اے 410‘ بغداد کے لیے صبح 7 بج کر 14 منٹ پر روانہ ہوئی۔ اس پرواز کے ذریعے پاکستان سے بڑی تعداد میں زائرین اور کاروباری شخصیات عراق روانہ ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق ایئر بغداد سے اسلام آباد کے لیے بھی جلد پروازیں آپریٹ کرے گی، جس کے لیے متبادل انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

پروازوں کی معطلی  کب ہوئی؟

اس فضائی روٹ پر آخری پرواز 28 فروری کو بغداد سے براہِ راست کراچی پہنچی تھی، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی سنگین صورتحال اور فضائی حدود کے استعمال میں لاحق خطرات کے باعث آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ پرواز ’آئی اے 409‘ آخری بار 15 فروری کو کراچی آئی تھی، لیکن اس کے بعد حالات خراب ہوتے چلے گئے۔

حکام نے مئی کے آغاز میں اس سروس کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ پرواز 2 اور 3 مئی کو بھی شیڈول پر موجود تھی، تاہم سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر اسے آخری لمحے میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اب 86 دن کے طویل انتظار کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ جڑ سکا ہے۔

فضائی رابطوں کی بحالی کے اثرات

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی، خصوصاً ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، خطے کی فضائی حدود شدید متاثر ہوئی تھیں۔ کئی فضائی کمپنیوں نے اپنے روٹس تبدیل کیے یا پروازیں مکمل طور پر بند کر دیں۔ ایسے حالات میں پاک عراق براہِ راست پروازوں کا دوبارہ شروع ہونا ایک بڑا تزویراتی اور سفارتی بریک تھرو ہے۔

زائرین کے لیے بڑی سہولت

پاکستان سے ہر سال لاکھوں زائرین نجف اور کربلا جیسے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے عراق جاتے ہیں۔ پروازوں کی معطلی سے زائرین کو دیگر ممالک کے مہنگے اور طویل روٹس استعمال کرنے پڑ رہے تھے۔ براہِ راست پروازوں سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی۔

معاشی اور سفارتی اہمیت

 اس فضائی رابطے کی بحالی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خطے میں فضائی حدود اب سویلین پروازوں کے لیے نسبتاً محفوظ ہو رہی ہیں۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نئی زندگی دے گا۔

Related Articles