2 ہزار سال پرانی پراسرار تختی سے جادوئی منتر برآمد

2 ہزار سال پرانی پراسرار تختی سے جادوئی منتر برآمد

نیدرلینڈز میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے رومی دور سے تعلق رکھنے والی سیسے کی ایک نایاب تختی دریافت کی ہے، جس پر پراسرار جادوئی منتر کندہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ منتر قدیم زمانے میں دشمنوں کے خلاف دیوتاؤں اور روحانی قوتوں کو پکارنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

یہ نوادر دریافت موجودہ نیدرلینڈز کے شہر ہیرلن میں واقع اس مقام سے ہوئی، جو رومی سلطنت کے دور میں لوئر جرمانیا  کا حصہ تھا۔

تقریباً 9.3 سینٹی میٹر لمبی اور 4.8 سینٹی میٹر چوڑی اس تختی پر موجود تحریر نے محققین کو حیران کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عبارت لاطینی کے بجائے قدیم یونانی زبان میں لکھی گئی ہے، جبکہ اس کا طرزِ تحریر مصری رسم الخط سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ورلڈ کپ کی سب سے منفرد مداح کو اسٹیڈیم میں داخلے سے روک دیا گیا

انسٹی ٹیوٹ آف پاپائرولوجی کے محققین کی تحقیق کے مطابق تختی پر تین مختلف اقسام کے حروف اور علامتیں موجود ہیں، جو اسے مزید پراسرار بنا دیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تختیوں کو قدیم دور میں ’’کرس ٹیبلٹس‘‘ کہا جاتا تھا اور انہیں عموماً سیسے سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ سیسے میں ایسی روحانی طاقت موجود ہے جو افراد یا اشیا پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جو برتن کچرا سمجھے جاتے تھے، وہ درختوں کے محافظ بن گئے

محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت رومی دور کے جادوئی عقائد، مذہبی رسومات اور پراسرار روایات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ اس دور کے لوگ تحفظ، انتقام یا دوسروں پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے مذہبی عقائد کے ساتھ مافوق الفطرت طریقوں کو کس طرح استعمال کرتے تھے۔

editor

Related Articles