افریقی ملک مراکش میں درختوں کی جڑوں کے گرد ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن رکھنے کی ایک روایتی تکنیک ماحول دوست زرعی طریقوں کی بہترین مثال بن گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق خشک اور گرم علاقوں میں مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے زمین پر قدرتی حفاظتی تہہ بنا دیتے ہیں۔ اس سے دھوپ براہ راست مٹی تک نہیں پہنچتی، پانی کے بخارات بننے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور درختوں کی جڑیں شدید گرمی میں بھی نسبتاً ٹھنڈی رہتی ہیں۔شدید
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سادہ مگر مؤثر طریقہ ثابت کرتا ہے کہ ہر نئی ایجاد کے لیے جدید ٹیکنالوجی ضروری نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیا کو دانشمندی سے استعمال کر کے بھی ماحول دوست حل نکالے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح بھارت میں بھی صدیوں پرانے زرعی طریقے آج تک ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسان فصلوں کے گرد نامیاتی ملچ اور ناریل کے چھلکے بچھاتے ہیں، جس سے زمین میں نمی برقرار رہتی ہے اور مٹی کے کٹاؤ میں بھی کمی آتی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت کے کئی دیہی علاقوں میں قدیم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے والے نظام، جیسے اسٹیپ ویلز (سیڑھی نما کنویں) اور چیک ڈیمز، دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں تاکہ پانی کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق مراکش اور بھارت کی یہ روایتی تکنیکیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقامی دانش، قدرتی وسائل کا مؤثر استعمال اور اجتماعی کوششیں جدید ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ اس سے فضلہ بھی نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔